پی ڈی ایم نے استعفوں کا اعلان کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کی تجویز کی حمایت کردی، لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے پر استعفے بھی دیے جائیں، ثاقب نثار آڈیو لیک کا معاملہ ملک گیر سطح پر اٹھایا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات سے متعلق متنازع قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں غیرحاضر ارکان اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ پی ڈی ایم اجلاس میں سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیک پر بھی بحث ہوئی، جسٹس ر ثاقب نثار کی آڈیو کو

سخت مزاحمت اور معاملے کو ملکی سطح پر اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ثاقب نثار آڈیو لیک پر مشترکہ بیانیہ بنایا جائے گا۔ یاد رہے گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 17 نومبر کی قانون سازی کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پی ڈی ایم ترجمان حافظ حمد اللّٰہ نے اجلاس کے اختتام پر میڈیا کو بریفنگ میں کہا کہ 17 نومبر کی قانون سازی کے خلاف وکلاء کا پینل بنا دیا ہے، ہم عدالت جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 17 نومبر کو قانون ساز پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا گیا، پی ڈی ایم تحریک میں تیزی لانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس 4 گھنٹے ہوا، اپوزیشن تحریک کو کیا شکل دینی ہی کیا نوعیت ہوگی احتجاج کیسے ہوگا، ان نکات پر مشاورت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو لاحق سب سے بڑی بیماری موجودہ حکومت اور عمران خان کی شکل میں ہے، سفارشات مرتب کر لی ہیں ،کل ہونے والے سربراہی اجلاس میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔پی ڈی ایم ترجمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کا ماحول ہے۔ چاروں صوبوں میں سیمینار، کانفرنس، گوادر میں جلسے کی سفارشات سامنے آئیں، جن کی روشنی میں تمام فیصلے قیادت کریگی۔ حافظ حمد اللّٰہ نے کہا کہ لاہور جلسہ، لانگ مارچ، پہیہ جام، شٹرڈائون بھی ایجنڈے میں شامل ہیں، مارچ میں لانگ مارچ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم کہہ رہے تھے نا انصافی ہورہی ہے، عدلیہ نے بھی وضاحت کردی، پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام نہیں تھا، جلسہ ناکام نہیں کہہ سکتے ہوسکتاہے، دیگر جلسوں سے تعداد کم ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں