سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی پر ضرورنظرثانی کرنی چاہئیے،جہانگیر ترین

لودھراں (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین نے سپریم کورٹ کے تاحیات نا اہلی کے فیصلوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی پرضرورنظرثانی کرنی چاہئیے۔ تفصیلات کے مطابق لودھراں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ اگرآپ کو سزا ملتی ہے تو اپیل کا حق انصاف کا بنیادی حصہ ہے، سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کی سزا میں نظرثانی کرے تو اچھی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ 5 سال تک جیل کاٹ کر واپس آتے ہیں اور جیل سے باہر آ کر الیکشن لڑتے ہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ پندرہ 20 دن پہلےمعلوم تھا کہ ڈی اے پی اور کھاد غائب ہورہی ہے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر احسن بھون نے بھی اس حوالے سے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلوں پر آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کی جائے۔آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے لیے آئینی درخواست دائر کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ نیب آرڈیننس کے خلاف درخواست تیاری کے مراحل میں ہے، جلد عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف جیسے فیصلے ایک فرد کو ٹارگٹ کرنے کے مترادف ہیں، ان جیسے فیصلوں پر نظر ثانی ہونی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا قانون بھی جلد چیلنج کیا جائے گا ۔احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے یقین دہانی ہے کہ ازخود نوٹس میں اپیل کے معاملے پر دوبارہ غور کریں گے۔ اللہ کے پاس بھی توبہ کا دروازہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدائی اختیار تو کسی انسان کے پاس نہیں۔پارلیمنٹ سپریم ہے اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں