وفاقی حکومت نے سندھ میں 15نومبر تک کرشنگ نہ کرنے والی شوگرملزکیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے سندھ میں مقررہ وقت پر کرشنگ نہ کرنے والی شوگر ملز کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کی گئی، سندھ حکومت نے گٹھ جوڑ کرکے قیمتیں بڑھائیں، ہمارے خلاف سازش ضرور کریں لیکن عوام کو تکلیف نہ دیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 15 اکتوبر تک شوگر ملز چل جاتی ہیں، سندھ میں 15 اکتوبر کو جو شوگر ملیں چلنی چاہئیں وہ ابھی تک کیوں نہیں چلیں؟ کسانوں کا ایک ہی خریدار ہے وہ شوگر ملز ہیں، رواں سال ایک

بار پھر سندھ حکومت گنے کی کرشنگ میں تاخیر کررہی ہے، گزشتہ سال بھی سندھ حکومت نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کی تھی۔ سندھ حکومت شوگر ملز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے چینی کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت چینی کی قیمت کم کرنے میں کردار ادا کرے، بوائلر چلا کر بند کرنے والی شوگر ملز کے نام ہمارے پاس موجود ہیں، رواں سال گنے کی بھرپور فصل ہوئی ہے، سندھ حکومت نے گزشتہ سال گندم ریلیز میں تاخیر کی۔ حماد اظہر نے کہا کہ ہمیشہ آٹے کی قیمت سندھ میں زیادہ اور پنجاب میں کم ہوتی ہے، حماد اظہر نے سندھ حکومت پر شوگر ملز کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگایا اور کہا کہ گٹھ جوڑ سے ہمیشہ قیمت بڑھائی جاتی ہے اور کمیشن لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف سازش ضرور کریں مگر عوام کو تکلیف نہ دیں، سندھ میں 15 نومبر تک شوگر ملز نہ چلیں تو قانون حرکت میں آئےگا۔ ایک لاکھ ٹن درآمدی چینی آگئی ہے، چینی 90 روپے کلو ملے گی۔ دوسری جانب ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں قابو میں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ گنے کی ریکارڈ فصل آرہی ہے جس سے چینی سستی ہوگی۔ عالمی منڈی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔عالمی مارکیٹ میں بڑھنے والی قیمتوں پر ہمارا اختیار نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں