امریکہ کو فوجی اڈہ دینے کی خبریں ، حکومت نے وضاحت کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے امریکی افواج کو ملک میں فوجی اڈہ دینے یا مستقبل میں ایسے کسی ارادے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں امریکی فوج کا کوئی فضائی اڈہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے، اس بارے کوئی بھی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہے جس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ایئر لائنز آف کمیونی کیشن اور گراؤنڈ لائنز آف کمیونی کیشن کے حوالے سے سال 2001ء سے تعاون کا فریم ورک موجود ہے لیکن ااس سلسلے میں کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں اس حوالے سے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کو کسی بھی صورت اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ پاکستان سی آئی اے یا امریکہ کی اسپیشل فورسز کو پاکستان کی سرزمین سے افغانستان میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی اجازت دے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں فضائی آپریشن کے لیے ائربیس نہیں دے سکتے۔ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ ممکن ہی نہیں کہ ہم امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لیے پاکستان میں اڈے دیں۔جس کے بعد اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکی صدر نے فون کرکے ڈو مور کہنا ہے تو نہ کریں، اگر ہم اڈے دینے کے لیے تیار ہو جائیں تو آج ہی جوبائیڈن کا فون آ جائے گا۔ تاہم جیو ٹی کی رپورٹ کے مطابق مغربی سفارتکاروں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان میں کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے۔مغرب کے ایک سینئر سفارتکار کے مطابق امریکی انتظامیہ میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے فوجی اڈے کی درخواست کی ہو لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ پاکستان میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس مسئلے پر بحث اور ہیش ٹیگ ایبسولیٹلی ناٹ مہم کی وجہ سے واشنگٹن میں سب حیران ہیں۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر فوجی اڈوں سے متعلق چلائی جانے والی اس مہم پر اپنے تحفظات سے اسلام آباد کو آگاہ کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں