حکومت اور کالعدم جماعت کا معاہدہ نہ دکھانے کا نقصان فریقین کو ہو گا،اعتزاز احسن

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینئر قانون دان اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی معاہدہ نہ دکھانے کا فریقین کو نقصان ہے۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان میں یا وزیراعظم پر اس طرح کا دباؤ ڈال کر کام کرانا پہلے بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے۔ماضی میں جب موجود وزیراعظم نے دھرنا دیتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف سے استعفی کا مطالبہ کیا تھا تو اس وقت میں نے اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نوازشریف سے مشترکہ پالیمانی اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا تھا۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ پارلیمان میں یا وزیراعظم

پر اس طرح کا دباؤ ڈال کر کام کرانا پہلے بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے۔معروف قانون دان نے مزید کہا کہ اب مفتی منیب الرحمان نے بات واضح کر دی کہ فرانسیسی مسیلہ ہماری ترجیح نہیں تھا۔واضح رہے کہ سابق چیئرمین مرکزی رویے ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحما ن نے کہا ہے کہ مطالبے میں فرانسیسی سفیر کو نکالنے والی بات جھوٹ تھی، یورپی یونین سے تعلقات ختم کرنے سے متعلق بھی جھوٹ بولا گیا، جبکہ بعض حکومتی لوگوں کی طرف سے جھوٹ بولا گیا، معاہدہ کروانے میں ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں۔انہوں نے کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کئی معاہدے کرکے توڑے گئے ان کو اعتماد نہیں تھا، پہلے معاہدہ کیا جاتا تھا اور شام کو ٹی وی پر کہا جاتا کہ اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، ہمارا مطالبہ تھا کہ مذاکرات کیلئے بااختیار کمیٹی بنائی جائے۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے والی بات جھوٹ تھی،یورپی یونین سے تعلقات ختم کرنے سے متعلق بھی جھوٹ بولا گیا۔جب حکومتی لوگ جھوٹ بولنا شروع کردیں۔ ہم کہتے رہے طاقت کا استعمال نہ کیا جائے، غیرحکیمانہ انداز میں طاقت کا استعمال فرعونیت ہے، ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں اور اصلاحی کوشش کے پیچھے کوئی مفاد نہیں ہے، لبرل کہتے ہیں حکومت کی رٹ کہاں گئی مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا میں سب جوان لوگ بیٹھے ہیں، لال مسجد کا آپریشن ہوا تو سب کہتے تھے حکومت کی رٹ کہاں ہی جب رات کو آپریشن ہوا تو صبح سب مخالف ہوگئے، یہ حکومت کی صفوں میں دشمن ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں