بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافی، مشیر خزانہ شوکت ترین نے قوم کوخبردار کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا لیکن اتنا نہیں ہوگا جتنا آئی ایم ایف چاہتا تھا۔تفصیلات کے مطابق شوکت ترین نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں،معاہدہ اسی ہفتے ہو جائے گا،ہمارا کام عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر نہیں ہو گی، مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے ہیں،مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے اور عالمی قیمتیں میرے کنٹرول میں نہیں ،اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے اور آئینی ترمیم کیلئے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہاکہ وسیع تر اصلاحات پر مشتمل یہ نظام تجارتی سرگرمیاں بڑھائے گا،تجارتی سرگرمیوں کا جی ڈی پی اور گروتھ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،پاکستان سنگل ونڈو گورننس اور تجارتی سرگرمیوں کا آسان ترین نظام ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت ہر شعبے میں بہتری کیلئے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے،گذشتہ 2 سالوں میں عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی،پیداواری لاگت اور شپنگ کے اخراجات بہت زیادہ بڑھے،پاکستانی تاجروں کیلئے تجارتی مواقع بھی پیدا ہوئے۔انہوںنے کہاکہ کاروباری لاگت اور وقت کی بچت سے برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے،پاکستان تجارتی مرکز اور ٹرانزٹ کے منصوبے پر کوشاں ہے،وسطی ایشیاء اور دیگر خطوں کے درمیان تجارت بڑھانے کے اقدامات کئے گئے ہیں،نئے نظام سے جعل سازی اور کرپشن کا موثر طور پر خاتمہ ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے مالیاتی معاون ادارے بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اسی ہفتے ہو جائے گا، میں تو اس حوالے سے ایک دو روز کی بات کر رہا ہوں، اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ آئینی ترمیم کیلئے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، آئی ایم ایف کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے، ایف بی آر اور نیشنل بینک کے بعد مزید سائبر حملوں کا خدشہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ دشمن ملک ہمارے پڑوس میں بیٹھا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں لیٹ نہیں ہونگی، صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے، مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے ہیں، مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے، عالمی قیمتیں میرے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں