لاہور میں احتجاج کے باعث بند کیے جانے والے راستے کھلنا شروع، ٹریفک بحال ہونے لگی

لاہور (نیوزڈیسک) کالعدم تنظیم کے احتجاج اور دھرنے کے باعث صوبائی دارالحکومت میں بند کی جانے والی سڑکیں کُھلنا شروع ہو گئیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں دبئی چوک سے اسکیم موڑ تک سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی گئی اس کے علاوہ کھاڑک اور لیاقت چوک سے اسکیم موڑ جانے والی سڑک بھی شہریوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلشن راوی اور سمن آباد سے یتیم خانہ روڈ ، مون مارکیٹ سے اسکیم موڑ جانے والی سڑک اور داتا دربار سے پیر مکی تک کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔مزید یہ کہ لاہور رنگ روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ قبل ازیں کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے پیش نظر شہر کی کچھ سڑکیں اور شاہراہیں بند کی گئی تھیں۔لاہور پولیس کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں 14 مقامات ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ ان مقامات میں دبئی چوک،کھاڑک، لیاقت چوک، گلشن راوی، ڈبل سڑکاں اور سمن آباد جانب یتیم خانہ ٹریفک کے لیے بند ہے۔اس کے علاوہ بابو صابو جانب موٹروے، شاہدرہ چوک، سگیاں پُل اورپرانا روای پُل، مون مارکیٹ جانب اسکیم موڑ اوربجلی گھر کی جانب اسکیم موڑ ، ضلع کچہری جانب سگیاں، داتا دربار اور پیر مکی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ لاہور پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی کہ شہر کی صورتحال کے پیش نظر ٹریفک سے متعلق معلومات کے لیے 15 پر کال کریں۔ خیال رہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں کالعدم تنظیم کا احتجاج جاری ہے۔گذشتہ رات لاہور میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے 2 اہلکارشہید ہو گئے۔شہید ہونے والوں میں ہیڈکانسٹیبل ایوب اور کانسٹبل خالد جاوید شامل ہیں، خالد جاوید چوکی میئو گارڈن جبکہ ایوب تھانہ گوالمنڈی میں تعینات تھا۔ ترجمان آپریشنز ونگ کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین کو توڑ پھوڑ اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر روکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے ڈنڈوں کا استعمال اورپتھراؤ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں