پاکستان آئی ایم ایف سے پیکج لینے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آج 18 اکتوبر کو پاکستان میں ڈالر کی قدر میں تاریخی اضافہ ہوا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اس ادارے کے پاس گئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران اور موجودہ مہنگائی کا طوفان آیا ہے۔واضح رہے کہ مہنگائی کی دُہائی صرف معاشی ماہرین یا عوام ہی نہیں دے رہے بلکہ اب حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مہنگائی کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑی کرنے جا رہی ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف

مہنگائی کے مسئلہ کو لے کر بھرپور احتجاج کیا جائے۔لاہور سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے ماہر آدم پال کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسی کی وجہ سے ملک میں پاکستانیوں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ان پالیسیز کی وجہ سے تمام حکومتوں نے کئی چیزوں سے سبسڈی ختم کی۔ پٹرول، زرعی اجناس اور دوسری اشیاء پر بھی سبسڈی ختم کی گئی۔ یہ سب کچھ عالمی مالیاتی اداروں کے کہنے پر ہوا۔‘‘آدم پال کے مطابق، ”پاکستان نے سب سے زیادہ عالمی مالیاتی اداروں کے پیکج لیے۔ پہلے دنیا میں نمبر ون ارجنٹینا تھا لیکن اس وقت پاکستان کا سب سے اوپر نمبر ہے۔اسی طرح بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومت عوام کو سبسڈی دے سکتی ہے لیکن آئی ایم ایف یہ سبسڈی دینے سے سختی سے منع کرتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اوپر جاتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مشکل ہوتی ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے حکومت بڑے پیمانے پر نجکاری بھی کرتی ہے: ”صرف گزشتہ تین سالوں میں تقریباً دو کروڑ کے قریب لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ایک طرف آئی ایم ایف کی پالیسی کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے اور دوسری طرف نجکاری کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خود کشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ عوام کا معاشی قتل عام ہے۔‘‘کئی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میںپاکستان کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئیں کیونکہ عالمی مالیاتی ادارہ ہمیشہ پاکستان سے مطالبہ

کرتا ہے کہ وہ روپے کی قدر کو کم کرے جس سے معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر معیشت ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسیز نے پاکستان کے لیے مزید معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ روپے کی قدر کم کی جائے اور ان کے خیال میں درآمد کو مہنگے کیے جانے سے درآمدی اشیا کی مانگ کم ہو جائے گی لیکن درآمدی اشیاء اگر خام مال ہو یا انڈسٹریل مشینری ہو تو اس سے صرف نظر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں آپ کے لیے

درآمد کردہ اشیاء مہنگی ہوجاتی ہیں جس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ یہ مہنگائی انڈسٹریل گڈز اور خام مال کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں صنعت بند ہونا شروع ہو جاتی ہے جیسے کہ 90 کی دہائی میں ہوا۔‘‘کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور عالمی مارکیٹ میں مہنگی ہوتی ہوئی تیل و گیس پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکال سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاالدین کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ غیریقینی سیاسی صورتحال بھی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے:

”ان تمام عوامل کی وجہ سے پاکستانی معیشت کا جنازہ نکل سکتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اور عام آدمی کے لیے بہت ساری مشکلات پیدا ہوں گی۔لیکن اس میں صرف قصور حکومت کا نہیں ہے بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال کا بھی ہے۔‘‘اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے ماہر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی لہر کا بڑا گہرا تعلق عالمی سطح میں بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”برینٹ 40 ڈالرسے 83 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔پام آئل اور شوگر کی قیمت میں 50، 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کوئلہ کی قیمت میں 300

فیصد اضافہ ہوا ہے اور ہم نے گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے پاور پلانٹس لگائے ہیں جو کوئلے سے چلائے جاتے ہیں اور جو ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ گندم اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘‘خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت تک مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ اپنی زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت کو بہتر نہیں کرتا: ”ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غذائی اجناس کی پیداوار کو بہتر بنائیں اس کے لیے بہترین بیچ یعنی بی ٹی کاٹن اور جی ایم او سیڈز بڑے پیمانے پر متعاراف کرانا ہوں گے ۔غذائی اجناس اس وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ ہمارے

پاس کولڈ اسٹوریج یا لاجسٹک کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی کا ایک سبب پانی کا ضائع ہونا بھی ہے۔ تقریباﹰ آدھا پانی ضائع ہو جاتا ہے تو تمام مسائل پر قابو پانا چاہیے تاکہ ہماری زرعی اجناس کی پیداوار بہتر ہو اس سے مہنگائی کو کم کرنے میں بہت حد تک مدد ملے گی۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں