موٹروے کا دلخراش واقعہ، متاثر خاتون نے خود پر ہونیوالے ظلم کی تفصیلات بتادیں

لاہور(نیوز ڈیسک) دو روز قبل موٹروے پر خاتون سے ساتھ زیادتی کاہولناک واقعہ پیش آیا۔جس میں دو نامعلوم افراد نے خاتون کو بچوں کے سامنے بدترین تشدد کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر خاتون کو وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔معروف صحافی فریحہ نے زیادتی کی شکار خاتون کے ساتھ کی گئی ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں زیادتی کی شکار ہونے والی خاتون کے ساتھ انتہائی افسوسناک گفتگو ہوئی۔اس کی کہانی دل دہلا دینے والی ہے۔وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کو اس معاملے پر زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔متاثرہ خاتون پڑھی لکھی ہے اور اس راستے پر متعدد

بار سفر بھی کر چکی ہے ۔ایک اور ٹویٹ میں فریحی نے بتایا کہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے رشتہ دار کے گھر تھی۔انہوں نے اس وقت سفرنہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس نے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہوئے پہلے کی طرح اسی راستے پر سفر کرنے کا ارادہ کیا۔حیرت کی بات ہے کہ گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا۔جب گاڑی رک گئی تو فورا موٹروے پولیس ایمرجنسی نمبر پر کال کی۔پولیس نے اس کی لوکیشن لی۔وہ اس صورت حال سے واقف تھیں اسلئے اپنی کھڑکیوں اور دروازوں کو لاک کردیا۔اتنے میں دو آدمی کہیں سے سامنے آئے اور اسے دھمکیاں دینا شروع کر دی۔ان کے پانچ لاٹھیاں اور بھاری پتھر تھے۔انہوں نے لاٹھیوں اور پتھروں سے کار کی کھڑکیوں کے شیشوں کو توڑ دیا۔ فریحہ نے کہا کہ انہوں نے خاتون کو بری طرح مارا پیٹا۔خاتون کے ساتھ ساتھ بچوں پر بھی شدید تشدد کیا۔درندے چھوٹے بچے کو پکڑ کر بھاگ گئے جس کی خاطر خاتون بھی ان کے پیچھے بھاگ گئی۔آخر پولیس وہاں پہنچی تو انہوں نے دیکھا کہ خاتون کی گاڑی کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔اس کے بعد انہوں نے مقامی پولیس کو اطلاع دی۔عورت بری طرح سے زخمی تھی اور اس کے پیر سوجے ہوئے تھے جب کہ سر سے بھی خون بہہ رہا تھا۔بچوں کی حالت بھی خراب تھی۔پولیس اہلکاروں نے خاتون اور بچوں کو ریسکیو کیا تو وہ کیچڑ میں لت پت ہے جبکہ بچے بالکل بھی جان ہو چکے تھے،دوسری جانب موٹروے پر ہونے والے زیادتی کے کیس میں پولیس کو متاثرہ خاتون کی گھڑی اورانگھوٹھی مل گئی ہے اور7مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقوں سے

تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے اور کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزیرقانون راجہ بشارت کو کمیٹی کے کنوینرمقرر کیا گیا ہے جب کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کمیٹی، ڈی آئی جی انوسٹیشن پنجاب ڈاکٹرمسعودسلیم اور ڈی جی فرنزک ایجنسی، کمیٹی کے ممبر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.