طالبان نے افغانستان سے داعش کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا

کابل ( آن لائن )ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ چین افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہے۔ افغا نستان کے اثاثوں کو منجمد کرنا افغان عوام کے ساتھ زیادتی ہے، امریکا سمیت دوسرے ملکوں اور بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان طالبان نے کہا کہ افغان معاشرے کے معاشی مسائل کے حل کے لئے یہ رقوم بڑی اہمیت کی حامل ہیں اوریہ افغان عوام کی امانت ہیں جن کو جاری کیا جانا چاہئے۔خواتین سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان شریعہ کے احکامات اور قانون کے تحت خواتین کے حقوق کی حرمت کا خیال رکھیں گے،

ہم یہ نہیں کہتے کہ بچیاں اسکول نہ جائیں، اس سلسلے میں طالبان ایک پالیسی وضع کر رہے ہیں، بہت جلد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ذبیح اللہ مجاہد نے داعش سے متعلق بھی بات کی، جس میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش زیادہ تعداد میں موجود نہیں ہے، طالبان افواج داعش کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں داعش سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ داعش کے متعدد محفوظ ٹھکانوں کو مسمار کیا ہے، داعش طالبان کیلئیکوئی بڑامسئلہ نہیں ہے۔ ہم تہیہ کر چکے ہیں کہ افغانستان سے داعش کا صفایا کر دیں گے۔ داعش کے تمام کارندے افغان ہیں، ان میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں۔ افغان قائم مقام معاون وزیر برائے اطلاعات و ثقافت نے کہا کہ چین افغانستان میں چینی کارکنان اور اثاثوں کی سیکیورٹی کی ضمانت پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ ملک میں معاشی صورتِ حال معمول پر لوٹ رہی ہے، قومی وسائل اکٹھے کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغان تاجر نئی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، بشمول سڑکوں کی تعمیر کے، اہم منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے، کچھ ممالک کے ساتھ معدنیات کی تلاش کے سمجھوتوں پر دستخط کرنے والے ہیں۔ذبیح اللّٰہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کے اثاثوں کو منجمد کرنا افغان عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے، افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں