موٹروے کیس میں بڑی پیشرفت، متاثرہ خاتون سے لوٹی گئی طلائی،انگوٹھی اور گھڑی مل گئی

لاہور (نیوز ڈیسک) موٹروے پر ہونے والے زیادتی کے کیس میں پولیس کو متاثرہ خاتون کی گھڑی اورانگھوٹھی مل گئی ہے اور7مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے اور کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ایف آئی آر میں نامزد ملزمان

سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزیرقانون راجہ بشارت کو کمیٹی کے کنوینرمقرر کیا گیا ہے۔ ٹیم میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب ڈاکٹرمسعودسلیم اور ڈی جی فرانزک ایجنسی شامل ہیں۔کمیٹی تین روز میں تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ وزیراعلی کو پیش کرے گی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.