عالمی منڈی میں چیزوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہونے سے مہنگائی ہوئی،وزیراعظم

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے، ہم لوگوں کو مہنگائی بڑھنے کی وجوہات سمجھا نہیں پا رہے، عالمی منڈی میں چیزوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہونے سے مہنگائی ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملک کی معاشی، سیاسی، ترقیاتی کاموں اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ اپنے حلقوں میں عوام کو مہنگائی کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے،

ہم لوگوں کو سمجھا نہیں پا رہے مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں،عالمی منڈی میں چیزوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث مہنگائی بڑھی ہے۔پاکستان میں اب بھی خطے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے،حکومت کو مہنگائی کا احساس ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔عسکری قیادت سے میرے سے بہتر تعلقات کسی کے نہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی پر ہونے والی قیاس آرائیاں درست نہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی میں تکنیکی خامی تھی جو دور ہو جائے گی۔ بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مئوقف ہےکہ اس وقت میں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے، افغانستان کے لیے ویزا آسان کردیا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارت کو بڑھایا ہے، چاہتے ہیں کہ دنیا بھی افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے۔وفاقی وزیرفواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے، وزیراعظم عمران خان کے آرمی چیف سے بہت اچھے تعلقات ہیں، ماضی میں کبھی بھی سول ملٹری تعلقات اتنے اچھے نہیں رہے جتنے آج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق اقدامات جاری ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری سے متعلق تمام معاملات طے پاچکے ہیں۔فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔

ایک مخصوص طبقہ اس معاملے پر جو کھیل کھیلنا چاہتا تھا وہ ناکام ہو چکا ہے، اب کہا جا رہا ہے، وزیراعظم نئے ڈی جی آئی ایس آئی کیلئے انٹرویو کریں گے، ان عہدوں پر تعیناتی سے قبل ملاقات ایک عمومی روایت ہے ایسے عمل کو بھی متنازعہ بنانا انتہائی نامناسب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں