ایف بی آر کا بڑا کارنامہ ، ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایف بی آر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ماہ کے دوران 500 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے تیسرے ماہ کے اختتام پر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ایف بی آر حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2021 میں ستمبر 2020 کےمقابلے میں 31 فیصد سے زائد کا ریونیو اکٹھا ہوا۔گزشتہ مالی سال میں ستمبر کے ماہ کے دوران 400 ارب روپے سے زائد اکٹھے کیے گئے تھے، جبکہ رواں مالی سال میں ستمبر کے ماہ میں 535 ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں، یہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے

جب ایک ماہ کے دوران 500 ارب روپے سے زائد کا ریونیو اکٹھا کیا گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں گزشتہ سال کے اسی دورانیہ کے مقابلے میں 38 فیصد سے زائد ٹیکس اکٹھا ہوا، 3 ماہ کی کل وصولیاں 1395 ارب روپے رہیں، جبکہ ہدف 1211 ارب روپے کا رکھا گیا تھا۔واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ ماہ اگست میں بھی ریکارڈ ریونیو اکٹھا کیا تھا۔ بتایا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ماہ اگست کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 349 ارب روپے مقرر کیا تھا جو مالی سال کے دوسرے ماہ کے اختتام سے 3 روز قبل ہی حاصل کر لیا گیا تھا۔ ایف بی آر کے مطابق اگست کے اختتام پر کل 434 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جو کہ ہدف سے 85 ارب روپے زائد تھا۔جبکہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں 415 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا تھا، یوں ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کی ٹیکس وصولیاں 8 کھرب روپے سے زائد رہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ ایف بی آر کے مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں 850 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہا۔ ایف بی آر کے مطابق جولائی اور اگست 2021 کیلئے کل 690 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف تھا، جو ناصرف باآسانی حاصل کیا گیا، بلکہ مقرر کردہ ہدف سے 20 فیصد سے زائد ریونیو، کل 160 ارب روپے زائد اکٹھے کرلیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث ریونیو میں اضافہ ہورہا ہے جو کہ خوش آئندہ ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ آنے

والے مہنیوں میں ریونیو گروتھ میں مزید تیزی آئے گی۔ یہاں واضح رہے کہ وفاقی وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کے اختتام تک کل پونے 6 ہزار ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا دعویٰ ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ہدف سے زائد ریونیو اکٹھا کر کے دکھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں