فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی جانب سے الزامات، الیکشن کمیشن نےسخت کاروائی کا اعلان کردیا

کراچی(نیوز ڈیسک)وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کے الیکشن کمیشن پر الزامات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے نوٹس کا جواب جمع کرانے کیلئے دونوں وزرا کو مہلت دے دی، الیکشن کمیشن کامقررہ وقت میں جواب نہ جمع کرانے پر سخت کارروائی کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نوٹس کا جواب جمع کرانے کیلئے فواد چوہدری اوراعظم سواتی کو مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ وقت میں جواب نہ جمع کرانے پر کارروائی ہوگی۔وفاقی وزراء فواد چوہدری اور اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن کے نوٹس پر جواب جمع کروانے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگ

تھا جس پرالیکشن کمیشن نے انہیں جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے دونوں وفاقی وزراء کو تین ہفتوں تک جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہےکہ مقررہ وقت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں وفاقی وزراء کے خلاف الیکشن ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی جب کہ الزامات کے ثبوت فراہم نہ کرنے کی صورت میں وفاقی وزراء کے خلاف توہین کمیشن کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔واضح رہے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے لینے کا الزام عائد کیا تھا اور فواد چوہدری نے چیف الیکشن پر نوازشریف سے رابطے کا الزام عائد کیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرا کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے لینے کا الزام عائد کیا تھا اور فواد چوہدری نے چیف الیکشن پر نوازشریف سے رابطے کا الزام عائد کیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرا کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر ریلوے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کیے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے دونوں وزراء سے الزامات کے ثبوت مانگتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کردیے تھے- 10 ستمبر کو وزیرِ ریلوے اعظم سواتی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر برس پڑے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں