موٹروے کا دلخراش واقعہ، ملزمان کو کیا سزا دی جائے؟عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا

لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور کے علاقے گجر پورہ میں بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی ماں کے حق میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر دیکھا جارہا ہے کہ عوام کی طرف سے ناصرف واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے بلکہ مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلنے والی اس گندگی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے، عوام کی طرف سے یہ مطالبہ اس لیے بھی زور پکڑ رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جہاں ناصرف خواتین بلکہ

معصوم بچوں اور ننھی کلیوں کو بھی درندہ صفت لوگ اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے رہے ہیں جن میں سے قصور کا واقعہ تو سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ٹویٹر پر بننے والے مختلف ٹرینڈز میں عوام کے جذبات کی ایک جھلک ان پیغامات میں دیکھی جاسکتی ہے ۔اس ٹویٹ میں عادل نامی شہری کی طرف سے وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسانیت مر رہی ہے انسانی حقوق کی رکھوالی کرنے والے سو رہے ہیں ، جناب وزیراعظم صاحب برائے مہربانی یہ محترمہ شیریں مزاری اس وزارت کے اہل نہیں ہیں ، ان سے یہ وزارت واپس لی جائے ۔ایک اور ٹویٹر صارف نے بھی شیریں مزاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ ان کی طرف سے سرعام پھانسی دیے جانے کے بل کی مخالفت کیوں کی گئی ۔ٹویٹر صارف نعیم ملک نے پوچھا ہے کہ اس قانون کی مخالفت کرنے والے صرف اس بات کا جواب دیں کہ اگر ان کے بچوں کے ساتھ ایسے ہی درندگی سے ریپ ہو تو پھر وہ کیا کریں گے؟؟ یہ معصوموں کے ساتھ ظلم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ تم لوگوں کی وجہ سے انہیں تحفظ مل رہا ہے ۔وقاص احمد صافی نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے نظام عدل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ نوٹس ہو گیا اب مجرم پکڑے جائیں گے ، عدالت میں پیش ہوں گے ، پہلے عبوری ضمانت ہو گی پھر کیس چلتا رہے گا ، چند سال بعد کیس ختم لوگ بھول جائیں گے ، پھر کوئی اور زیادتی کا کیس آئے گا اس پر ہم چند دن آواز اٹھائیں گے پھر وہی نوٹس وہی عدالت وہی ضمانت اور یہ نظام چل سو چل ۔ایک خاتون عمیرہ اعوان کا

کہنا ہے کہ ہم خود کو یہاں محفوظ تصور نہیں کرتیں ، ہم ڈرگئے ہیں ہمیں بتایا گیا کہ ہم آزاد ہیں لیکن ہم نہیں ہیں ، وہ 2بچوں کی ماں تھی اس کے بچے بھی اس کےئ ساتھ تھے یہ کیسی آزادی ہے ۔ دوسری جانب لاہور رنگ روڈ پر دوران ڈکیتی خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، 14 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا، تفتیشی ٹیموں نے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کرلئے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20 ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں، ٹیموں نے وقوعہ سے ڈی

این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کرلئے، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی، جیو فینسنگ بھی کرائی گئی۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کیلئے نکلی، خاتون کو گھر سے نکلتے وقت کم ازکم گاڑی میں پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا، خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، خاتون کے بھائی نے 130 پر موٹروے پولیس کو فون کر کے کہا کہ اپنی موبائل بھجوائیں۔سی سی پی او لاہور کا کہنا جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں 3 گاؤں ہیں، ملزمان کے گاڑی کا شیشہ توڑنے سے خون نکلا جس کی وجہ سے ہمارے پاس خون کا نمونہ موجود ہے، تحقیقات میں رورل اور اربن پولیس کی جدید تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے، اطلاع ملتے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، 14 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، 48 گھنٹے میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.