ایک روپے اضافے کی تجویز کی گئی تھی لیکن حکومت نے پٹرول کی قیمت 5روپے کیوں بڑھا دی؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پٹرول کی قیمت 1 روپے کی بجائے 5 روپے بڑھانے کی وجہ سامنے آگئی، وزارت خزانہ نے 16 ستمبر سے فی لیٹر پٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کر دیا، قیمت 123 روپے سے زائد ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے اوگرا کی سمری میں دی گئی تجویز کے برعکس پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 1 روپے اضافے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وزارت خزانہ نے 5 روپے کا اضافہ کر دیا۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے پٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کر کے کل قیمت میں اضافہ کیا۔

15 ستمبر تک وزارت خزانہ فی لیٹر پٹرول پر 1 روپے سے زائد لیوی وصول کر رہی تھی، تاہم اب 16 ستمبر سے فی لیٹر پٹرول پر 3 روپے سے زائد لیوی وصول کی جائے گی، اسی باعث پٹرول کی قیمت میں 1 روپے کی بجائے 5 روپے کا اضافہ کیا گیا۔واضح رہے کہ وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے سے زائد کا اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 42 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 5 روپے 92 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 1 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یوں پٹرول کی نئی قیمت 123 روپے 30 پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 120روپے 4 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 90 روپے 69 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 92 روپے 26 پیسے فی لٹر ہو گئی۔اعلان کردہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اوگرا کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو بھیجی گئی سمری میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے دس روپے اور پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی ۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں ساڑھے پانچ روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی ساڑھے پانچ روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری موجودہ لیوی اور جی ایس ٹی کے مطابق تیار کی گئی، پٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس میں ردو بدل سے قیمتوں میں ردو بدل کی تجویز دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں