پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے، وزیر خزانہ شوکت عزیز کا دعویٰ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ کار ساز کمپنیاں لاڈلے رہے ہیں جلد نئی آٹو پالیسی لارہے ہیں جس میں ان کمپنیوں کے نخرے ٹھیک کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے مطابق اگر کمپنیاں بروقت گاڑیاں ڈیلیور نہیں کریں گی تو انہیں جرمانہ دینا پڑے گا، شوکت ترین کا کہنا تھا کہ گاڑیوں سمیت تمام لگژری آئٹمز کو دیکھ رہے ہیں کہ اس کی درآمد میں کس طرح کمی لائے جاسکتی ہے تاکہ تجارتی خسارہ میں کمی ہوجائے۔نجی ٹی وی سماء کے پروگرام میںانہوں نے کہا کہ زیادہ تر کار ساز صنعتیں یہاں

پر گاڑیاں صرف اسمبل کرتی ہیں اور صرف 3 کمپنیوں کی اجارہ داری ہے، اس لئے اب ہم 7 کمپنیوں کو مارکیٹ میں لارہے ہیں تاکہ کمپنیوں کے درمیان مسابقت کا رجحان پیدا ہوجائے۔وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس وقت کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں پیداوار کم ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے، کچھ ممالک میں 50 فیصد سے زیادہ مہنگائی ہے مگر پاکستان میں ان کے مقابلے میں صرف 15 فیصد مہنگائی ہوئی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے۔ گندم کی ریلیز پرائز 19 سو روپے کردی ہے جس کے بعد آئند چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی کمی ہوجائے گی۔اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے سبزیوں کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کررہے ہیں، احساس پروگرام کا ڈیٹا آگیا ہے، جس کے تحت ہم رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، اس سے قبل گیس اور بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے، اب آٹا، گھی، چینی، دالوں پر کیش سبسڈی دیں گے۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی۔شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت روز

مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں مقامی سطح پر اضافے کے بعد جائزہ لینا ہوگا کہ آیا منڈی میں مہنگے دام فروخت ہونے والی سبزیوں کو برآمد کرنا چاہیے یا نہیں۔ ہم بین الاقوامی قیمتوں سے لنک (منسلک) ہوگئے ہیں، ہم ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ کاشت ہونے والی سبزی سے لیکر خوردہ فروش (ریٹیلرز) کا کتنا کتنا فائدہ ہے، اور یقینی طور پر یہ منافع بہت ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کو اتنا منافع نہیں ملتا جتنا خوردہ فروش کماتا ہے، اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ‘سائنٹیفک پروسیز ری انجینئرنگ ‘ کررہے ہیں۔شوکت ترین نے مزید کہا کہ کاشت کار سے لیکر مارکیٹ میں فروخت ہونے تک کے تمام

مراحل کی سائنٹیفک بنیاد پر مطالعہ ہوگا کہ کون کتنا فیصد منافع وصول کررہا ہے اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں کون کون شامل ہو کورونا کی وجہ سے دنیا بھرمیں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں، کورونا سے اشیا کے فراہمی متاثر ہوئی اوراس کے منفی اثرات مرتب ہوئے، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے، قیمتوں کے استحکام کے لیے پیداوار بڑھانا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی فی ٹن 430 ڈالر پر چلی گئی ہے۔ ماضی میں زراعت کا شعبہ نظر انداز رہا اور کسان متاثر ہوا، ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں