پہلے کچھ چیزوں پر خاموشی تھی اب حقائق دنیا کو بتائیں گے، ڈاکٹر معید یوسف

اسلام آباد(آن لائن)مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہپاکستان نے ڈو مور کا چیپٹر ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے،افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق فیصلہ وقت آنے پر ہوگا، علاقائی مسائل پر عالمی برادری سے رابطے میں ہیں۔فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسی کیمپ میں نہیں جائیگا،امریکہ سمیت تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں،چین کے ساتھ تعلقات پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا پاکستان نے افغانستان کی صورتحال پر علاقائی ممالک کو اعتماد میں لیاہے،سی آئی اے چیف سے بھی افغانستان کے

مسائل اور ممکنہ حل پر گفتگو کی گئی ہے،نہیں چاہتے کہ افغانستان میں معاشی، انسانی اور گورننس کا بحران پیدا ہو،یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ہٹلر اور مودی میں کوئی فرق نہیں۔ ہم نے واضح کردیا ہے کوئی امریکی اڈے یا آن گراونڈ فوجی تعینات کرنے کی منظوری نہیں دیں گے،ہمارا امریکہ سے دوطرفہ تعلقات کا سلسلہ چل رہا ہے، ہم امریکہ سے تعلقات بارے کھل کر بات کرتے ہیں، امریکہ کی طرف سے اب ڈومور کی کوئی بات نہیں ہورہی۔ ڈاکٹر معید یوسف کا کہناہے کہ فیصلہ کر لیا ہے کہ حقائق کھل کر دنیا کے سامنے رکھیں گے۔پہلے کچھ چیزوں پر خاموشی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔مودی جس پٹڑی پر چڑھ چکا ہے اپنا کباڑہ کرے گا۔نہیں چاہتے کہ کشمیری ہمیشہ پستا رہے۔فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو خراب کرنا چاہتا ہے، کشمیری ہر آئے دن پس رہا ہے، ہم زبانی بات نہیں کرتے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ڈوزئیرز کی صورت میں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان علاقائی مسائل پر عالمی برادری سے رابطے میں ہے۔پہلے افغانستان کے معاملے پر ہماری بات نہیں سنی گئی لیکن اب سب سن رہے ہیں۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسی کیمپ میں نہیں جائیگا۔ امریکہ سمیت تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ہم معاشی اور تجارتی اعتبار سے تعلقات کی مضبوطی چاہتے ہیں۔چین کے ساتھ تعلقات پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا بھارت نے 20 سال تک افغانستان میں سرمایہ کاری کی۔بھارت افغانستان میں مخالف عناصر کو استعمال کرتا رہا ہے، افغانیوں کے

ذہنوں میں زہر بھرنے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے کوششیں کی گئیں۔بھارت کے پاکستان کے خلاف افغانستان میں کام کرنے والے قونصل خانے اب ماضی کی طرح کام نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے کہا افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق فیصلہ وقت آنے پر ہوگا افغانستان میں طالبان نے حکومت بنائی ہے، ہم ہمسایہ ملک ہے، ہمیں افغانستان سے تعلقات آگے بڑھانے ہیں، طالبان کو تسلیم کرنے کی بات ابھی قبل از وقت ہے، طالبان سے دنیا کو انگیج کرنا ہوگا، یہی ہم دنیا کو کہ رہے ہیں، اس پر دنیا کو اتفاق کرنا ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کو طالبان کے حوالے سے نوے کی دہائی والی غلطی نہیں کرنا۔افغان پناہ گزینوں کا معاملہ حل کرنا ہوگا، کوشش کرنا ہوگی مزید پناہ گزیں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا ہمارے ہمسایہ میں کسی قسم کی کوئی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں ہونی چاہئے۔ہم نہیں چاہتے ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان عدم استحکام کا شکار ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں