وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے، وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بڑی جماعت کے عدم اعتماد کے بعد چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوجائیں، الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈکوارٹر بن گیا ہے، الیکشن کمیشن کیخلاف جوڈیشل کمیشن کے پاس بھی جا سکتے ہیں، پی ٹی آئی اپنے منشور کے تحت انتخابات میں ٹیکنالوجی لانا چاہتی ہے لیکن الیکشن کمیشن کی منطق عجیب وغریب ہے۔انہوں نے وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت کے عدم اعتماد کے بعد چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوجائیں،

چیف الیکشن کمشنر کو چاہیے کہ وہ اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں، الیکشن کمیشن کے خلاف جوڈیشل کمیشن کے پاس بھی جاسکتے ہیں، 2013 کے الیکشن کےبعد عمران خان نے کہا 4 حلقوں کو کھولیں، شاہد خاقان عباسی اینڈ کمپنی معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں، عمران خان نے بہت بڑی تحریک کا آغاز کیا تھا، عدالت نے کہا الیکشن کمیشن پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے، 2018 کے الیکشن میں عوام نے عمران خان پراعتماد کا اظہارکیا۔فواد چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف کے منشور میں الیکشن شفاف بنانے کا وعدہ کیا گیا، الیکشن شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کی منطق عجیب وغریب ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قانون بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں پارلیمان کو ہے، چیف الیکشن کمشنر کے نوازشریف سے قریبی روابط رہے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کی نوازشریف سے ہمدردی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن کا رویہ پارلیمان کے استحقاق کو ٹھکرانے کے مترادف ہے، اگر پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو ملکی سیاست بہتر ہوگی۔فواد چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ان کا کچا چٹھا کھول دیا ہے، اپوزیشن والے چھوٹے لوگ اوران کی سوچ بھی چھوٹی ہے، لگتا ہے الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈکوارٹرز بن گیا ہے، عمران خان کی واحد حکومت ہے جس نے شفاف الیکشن کیلئے تجاویز دیں، ہم نے اپوزیشن کو الیکشن اصلاحات پر دعوت دی، جہاں اپوزیشن ہارجاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں