سپریم کورٹ احاطہ میں وکلاء کی پرجوش نعرے بازی ، چیف جسٹس کا نام لیکر باقاعدہ انکے احکامات ماننے سے انکار

اسلام آباد، کراچی(نیوز ڈیسک)عدالت عظمیٰ کے احاطے میں وکلاء برادری کے جاری احتجاج میں وکلاء کی طرف سے ”صرف تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے”ججز گردی نہیں چلے گی ،وکلاء اتحاد زندہ باد،وردی عدلیہ رابطے ہم نہیں مانتے” جیسے پرجوش نعرے لگاتے رہے۔وکلاء برادری نے اس موقع پر احتجاج کی مناسبت سے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے اور مطالبات درج کئے گئے تھے ۔پلے کارڈ پر اعلی عدلیہ میں غیر قانونی تقرریوں کی بابت میں مختلف مطالبات درج کئے گئے تھے ۔وکلاء برادری نے اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار

احمد کا نام لیکر باقاعدہ ان کے احکامات ماننے سے انکار کرتے رہے۔دوسری جانب وکلا رہنمائوں نے سندھ ہائی کورٹ کے بھی تمام داخلی راستے بند کردیئے۔ سائلین اورسرکاری وکلا کو بھی دروازے پر روک دیا گیا۔ عدالتوں میں پیش ہونے کے خواہش مند وکلا کوبھی روک لیا گیا۔ وکلا، سائلین کی عدم پیشی پر مقدمات کی سماعت متاثر رہی۔عدالتی راہداریوں میں سناٹا۔ عدالتی عملہ وکلا اور سائلین کے نام پکارتا رہا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وکلا کی یہ پانچویں ہڑتال ہے۔ سندھ ہائیکورٹ بار عہدیدران نے ججز سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ وکلا نے کہا کہ ہڑتال ہے، ججز تعاون کریں، فوری کیسز چیمبرز میں سن لیں۔ جسٹس اقبال محمد کلہوڑو اور جسٹس محمد سلیم جیسر نے فوری طور پر چیمبرز میں جانے سے انکار کردیا۔ جسٹس محمد اقبال محمد کلہوڑو نے ریمارکس دیئے پیش نہ ہونے والے وکلا کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ سے ہمیں کوئی ہدایت نہیں ملی۔ کم از کم جو کیسز لگیں ہیں ان میں تاریخیں تو ہونے دیں۔ جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے جو وکیل پیش نہ ہونا چاہیے نہ ہو۔ وکلا، سائلین کی عدم پیشی پر بیشتر کیسز کی سماعت ملتوی کردی گئی۔ادھر ماتحت عدالتوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ ہڑتال کے باعث جیلوں سے قیدیوں کو بھی نہیں لایا گیا۔عدالتی راہداری میں بھی سناٹا رہا اورسینکڑوں مقدمات کی سماعت کارروائی کے بغیر ملتوی کردی گئی۔سندھ ہائی کورٹ کی سینارٹی کی فہرست میں 5ویں نمبر کے جج محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا مستقل جج مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل کی جانب سے پچھلے ماہ احتجاج بھی کیا گیا تھا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2022 کے پہلے 8 مہینوں میں سپریم کورٹ کے 7 ججز ریٹائر ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں