بھارت میں بارش کے دیوتا کو خوش کرنے کیلئے کم سن بچیوں کے کپڑے اتار کر ان کیساتھ کیا سلوک کیا گیا

بھارت (نیوز ڈیسک)فرسودہ روایات کی پیروی بھارت میں ایک عام سی بات ہے جس کی وجہ توہم پرستی کا عروج پر ہونا بھی ہے۔ بھارت میں توہم پرستی میں مبتلا علاقوں میں وجیب و غریب قسم کی رسمیں ہوتی ہیں جن میں اکثر و بیشتر بچوں اور کم سن بچیوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک روایت بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں کی بھی ہے۔بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے گاؤں میں فرسودہ رسومات کے تحت بارش کے دیوتا کو راضی کرنے کے لیے 6 کمسن بچیوں کو برہنہ کرکے گھمایا گیا۔ برطانیہ کے مؤقر اخبار دی انڈیپنڈنٹ اور بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ شرمناک

و افسوسناک واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا ۔ریاستی پولیس نے اس ضمن میں مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کم سن بچیوں کو ان کے خاندانوں کی مرضی کے تحت برہنہ کر کے گھمایا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا جہاں 6 کمسن لڑکیوں کو گاؤں کی ایک فرسودہ رسم کے تحت اس لیے برہنہ کرکے گھمایا گیا تاکہ برسات ہو اور خشک سالی کا خاتمہ ہوجائے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رسم بارش کے دیوتا کو راضی کرے گی اور علاقے میں بارش لائے گی۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن نے ضلعی انتظامیہ سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دوسری جانب مدھیا پردیش پولیس کا کہنا ہے کہ کم سن بچیوں کے ساتھ جو بھی کیا گیا وہ ان کے خاندان والوں کی مرضی سے کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ہمیں اس واقعے کے خلاف کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود ہم نے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں