پی ٹی آئی رہنما ندیم افضل چن نے طویل عرصے بعد بطور معاون خصوصی مستعفی ہونے کی وجہ بتا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کے سابق ترجمان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ بطور ترجمان وزیراعظم سیاسی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا تھا۔وزیراعظم کو بہت سارے ایشوز پر مس گائیڈ کیا جاتا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ حلقے کے لوگ،دوست احباب کام نہ کرا سکنے کی وجہ سے ناراض ہو رہے تھے۔یہاں واضح رہے کہ جنوری2021ء کو وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن عہدے سے مستعفی ہو گئے۔قندیم افضل چن نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا یا۔ان کے مستعفی ہونے سے ایک روز قبل وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا تھا جو

حکومتی پالیسی نہیں مانتا وہ چاہے استعفی دے دے۔ ہزارہ احتجاج پر ندیم افضل چن نے حکومتی پالیسی پر بے بسی کا اظہار کیا تھا ۔ندیم افضل چن اور شہباز گل کی ٹویٹر پر جھڑپ بھی ہوئی ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم نے حکومتی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والوں کو استعفیٰ دینے کا بول دیا تھا ۔ ندیم افضل چن کو وزیراعظم نے دبے الفاظ میں استعفیٰ کا اشارہ دے دیا جس کے بعد وہ عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے استعفے کے متن میں ندیم افضل چن نے تحریر کیا کہ آپ نے اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا تھا جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔لیکن میں مزید معاون خصوصی اور ترجمان کے عہدے کے فرائض انجام نہیں دے سکتا، آپ کے اعتماد اور ذمہ داریاں دینے پر آپ کا شکرگزار ہوں۔بعدازاں ندیم افضل چن کے پی ٹی آئی جو چھوڑنے کی خبریں بھی آئیں تاہم ندیم افضل چن نے تحریک انصاف کو خیرباد کہنے کی خبروں کی تردید کر دی تھی۔انہوں نے کسی صورت بھی استعفیٰ واپس نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی عہدہ نہیں لوں گا تاہم وہ پارٹی کا حصہ رہیں گے۔ ندیم افضل چن نے بطور معاون خصوصی ملنے والی گاڑی اور دفتر سمیت دیگر سرکاری مراعات واپس کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قریبی ساتھیوں سے بات چیت بھی ہوئی ہے، پارٹی میں ہی رہوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں