یوم حجاب دنیا بھر کی ان خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے،ثمینہ احسان

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی )موجودہ ترقی یافتہ دور میں حیا اور حجاب کے حصار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ حقوق نسواں کی بے شمار تحریکوں کے باوجود آج کی عورت پہلے سے بھی زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ گھر، محلے، تفریح گاہیں، ملازمت کی جگہیں یہ نازک آبگینے ہر جگہ تشدد کا شکار ہیں۔ عورت کی حیا اور معصومیت کو کہیں مارکیٹنگ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور کہیں تفریح اور ٹک ٹاک کے نام پر اس کا تماشہ بنایا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین صوبہ شمالی پنجاب کی ناظمہ ثمینہ احسان نے یوم حجاب کے پر کیا۔

انہوں نے کہا کہ حجاب اسلام کے نظام عفت و عصمت کا سمبل ہے۔ اس نظام میں مردوں اور عورتوں کی حدود مقرر کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے خصوصاً خواتین محفوظ ہو گئی ہیں اور اپنے دائرے میں کام کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ اس نظام کے تحت عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی غض بصر کا حکم دیا گیا ہے۔ ثمینہ احسان نے معاشرے کے مردوں سے مطالبہ کیا کہ اس پورے قانون حجاب کو معاشرے میں نافذ کیا جائے تاکہ عورت کی عزت محفوظ ہو جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ 4ستمبر عالمی یوم حجاب دنیا بھر کی ان خواتین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے جو اپنے حق حجاب کو منوانے کے لیے جدوجہد اور ہر طرح کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ کہیں جرمانے ہیں، کہیں پابندیاں ہیں اور کہیں متعصبانہ رویے ہیں مگر اس کے باوجود مسلمان عورت اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔کرونا کے تناظر میں پوری دنیا عذاب الٰہی کی لپیٹ میں ہے اور حجاب کے مخالفین کو بھی اب یہ راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں لہذا آج اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والی ہر ملک، طبقے، مذہب اور قوم کی ہر عورت کو اسلام کے نظام حجاب کے ذریعے”عزت، محبت اور حفاظت” کا احساس دلایا جائے۔کسی بھی معاشرے کی ترقی اس بات کی محتاج ہے کہ عورت کو محفوظ ماحول مہیا کیا جائے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ عالمی یوم حجاب اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ دنیا عورت کے حق حجاب کو تسلیم کرے۔ اسی نظام نے عورت کو تحفظ دیا، اس کے قدموں میں جنت رکھ دی، اس کو وراثت میں حق دیا اور معاشرے میں مقام دیا۔ نظام حجاب مسلمان عورت کی وہ قوت ہے جس کے نفاذ سے ویمن امپاورمنٹ کا خواب پورا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں