بھارت آئی ایس آئی سے ٹیوشن لے، سابق بھارتی پولیس آفیسر کا بھارتی ایجنسیوں کو مشورہ

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) آئی ایس آئی نے اپنے انتظامات اتنے پختہ کر لیے کہ آج سی آئی اے ، کے جی بی اور ایم آئی فائیو سمیت سب اس کا لوہا مانتے ہیں، آپ گالم گلوچ کی بجائے آئی ایس آئی کی عزت کریں، سابق بھارتی سینئر پولیس آفیسر کا بھارتی ایجنسیوں کو آئی ایس آئی سے ٹیوشن لینے کا مشورہ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی دانشور اور سابق پولیس افسر ڈاکٹر وکرم سنگھ آئی ایس آئی کے فین نکلے ، کہتے ہیں کہ بھارت والے آئی ایس آئی سے ٹیوشن لیں اور کچھ سبق حاصل کریں۔ایک بھارتی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفت گو کرتے ہوئے بھارتی دانشور ڈاکٹر وکرم نے اپنے ایجنسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی کو 40 سال پہلے بھی دیکھا ہے، وہ کیا تھی اور اب کیا بن گئی ہے۔ڈاکٹر وکرم سنگھ نے کہا کہ آئی ایس آئی نے اپنی تیاری اور انتظامات اتنے پختہ کر لیے ہیں کہ آج سی آئی اے ، کے جی بی اور ایم آئی فائیو سمیت سب اس کا لوہا مانتے ہیں۔ڈاکٹر وکرم کہتے ہیں کہ گالم گلوچ توبہت کر سکتے ہیں مگر آپ کو آئی ایس آئی کوعزت دینا پڑے گی، جب دنیا سو رہی تھی تو انہوں نے بہت لمبا سفر طے کر لیا۔اسی لیے آج آئی ایس آئی مانی جاتی ہے۔سابق بھارتی پولیس افسر نے بھارتیوں کی زبان دازی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ زبان سے کچھ بھی کہہ دیں ، یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، کوئی بات چپ نہیں سکتی۔ڈاکٹر وکرم سنگھ نے بھارت سمیت دنیا کو مشورہ دیا کہ کچھ سیکھنا ہے تو آئی ایس آئی سے سبق لیں، ٹیوشن پڑھیں اور ایسا کرنا کوئی غلط کام بھی نہیں ہے۔ سب کو سبق لینا چاہیے۔واضح رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ برسدہلی میں ہونے والے ایک لٹریچر فیسٹیول میں انڈین خفیہ ادارے ”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حوالے سے حیران کن بات کہی ہے۔اس تقریب میں بات کرتے ہوئے دلت نے آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی قرار دیا تھا۔”ٹائمز لٹریچر فیسٹیول“ کے دوران”میڈنز ہوٹل“ نئی دہلی کے ایک ہال میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر سوال جواب کے دورانیے میں اے ایس دلت نے حاضرین کے سوالات کے جواب دیے۔ اے ایس دلت کے جذبات کے لیے ”محبت“ کا لفظ زیادتی ہوگی تاہم آئی ایس آئی کے

حوالے سے دلت نے اپنی پسندیدگی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔دنیا کی طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسی یا تو کے جی بی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے یا آئی ایس آئی ہے۔ ان دونوں ایجنسیوں کی طاقت ان کے خفیہ ہونے میں ہے۔شاید دلت کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ ایک ”دشمن“ ملک کے خفیہ ادارے کی تعریف میں کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے حساب برابر کرنے کی غرض سے انڈین خفیہ ادارے کی تعریف کرنا بھی مناسب خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں لیکن ہم تکنیکی اعتبار سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اب ہم اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔آئی ایس آئی کے لیے دلت کے یہ تعریفی کلمات اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ دنیا کی بڑے ممالک کے خفیہ ادارے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل اپنے وسائل کا بڑا حصہ سی آئی اے، ایم آئی سکس اور موساد جیسی ایجنسیوں پر صَرف کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں