افغانستان میں ہماری 20 سالہ موجودگی ختم ہوگئی،امریکی صدر

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک) امریکی صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ 17 روز میں تاریخ کا سب سے بڑا شہری انخلا کرایا، 31 اگست کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ متفقہ تھا، زندگیاں بچانے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع نہ دینا بہتر تھا۔امریکی صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ہماری افغانستان سے 20 سالہ موجودگی ختم ہوگئی ہے، وہ افغانستان میں خدمات انجام دینے والے کمانڈزر اور فوجیوں کا شکریہ ادار کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انخلا کی 31 اگست کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ متفہ تھا، زندگیاں بچانے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع نہ دینا بہتر تھا۔ صدر بائیڈن آج رات خطاب کریں گے اور انخلا کی تاریخ نہ بڑھانے امریکی عوام کو اعتماد میں لیں گے۔

واضح رہے کہ20 سالہ افغان جنگ میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی اور 3 ہزار 846 امریکی کنریکٹر ہلاک ہوئے۔ اس جنگ میں نیٹو کے ایک ہزار 144 فوجی کام آئے۔ 20 سالہ جنگ میں امریکی حمایت یافتہ 66 ہزار سے زائد افغان فوج اور پولیس اہلکاروں نے جان گنوائی۔47 ہزار سے زیادہ عام افغان شہریوں نے بھی جانیں قربان کیں۔ امریکی فوج سے نبرد آزما طالبان اور دیگر کے 51 ہزار سے زائد جنگجو مارے گئے۔ اس جنگ میں 444 امدادی کارکن اور 72 صحافیوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں۔طالبان رہنما انس حقانی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان پر امریکی اور نیٹو فورسز کا 20 سالہ قبضے کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے افغانستان میں ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آج افغانستان کو حقیقی آزادی ملی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں