پاکستان میں دہش تگردوں کی کوئی پناہ گاہیں موجود نہیں، سربراہ برطانوی فوج کا اعتراف

لندن(نیوز ڈیسک)برطانوی مسلح فوج کے سربراہ جنرل سرنک کارٹرنے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں، پاکستان کئی سالوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، پاکستان خواہشمند ہے کہ افغانستان پرامن اور مستحکم ہوجائے۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان خواہشمند ہے کہ افغانستان پرامن اور مستحکم ہوجائے، پاکستان کئی سالوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔جنرل سرنک نے ایک سوال’’ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات لگائے جاتے ہیں‘‘ کے جواب میں کہا کہ پاکستان

نے چیلنجز کا سامنا کیا، پاکستان میں تین دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، پھر کیسے معلوم ہوگا کہ ان مہاجرین میں کون دہشتگرد ہے،پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔پاکستان بری فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ بہت زیادہ حقیقت پسند ہیں اور مستحکم و معتدل افغانستان چاہتے ہیں۔ سرنک کارٹر کہا کہ برطانوی افواج افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر سکیورٹی کیلئے کام کر رہی ہیں۔ برطانوی فوجی کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی فراہم کررہے ہیں اور شہر کے وسطی حصے کو پرسکون رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان ملک سے جانے والے لوگوں کے ساتھ معقول انداز میں پیش آرہے اور ان کو کچھ نہیں کہہ رہے۔دوسری جانب نیوزایجنسی کے مطابق افغانستان میں انتقال اقتدارکی صورتحال سے متعلق پاکستان نے کوششیں تیز کردی ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی صورتحال پر ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آئندہ بدھ سے 4 ہمسایہ ممالک کا دورہ شروع کریں گے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا وزیر خارجہ25 اگست سے 27 اگست تک چار ممالک کا دورہ کریں گے۔وزیر خارجہ ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران کا دورہ کریں گے۔ شاہ محمودقریشی اپنے دوروں میں افغانستان کی صورتحال اور انتقال اقتدار کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ وزیر خارجہ اپنے چار ملکی دورے میں پاکستان کی افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی خواہش کا اعادہ کریں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کے چار ملکی دورے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں