امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے افسوسناک خبر سامنے آگئی

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جیل میں حملہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ افراد کو معاونت فراہم کرنے والی برطانوی تنظیم‘کیج’کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق امریکا کی ریاست ٹیکساس کی جیل میں قید عافیہ صدیقی کے وکلا نے بتایا ہے کہ ایک قیدی کافی عرصے سے عافیہ صدیقی کو مسلسل ہراساں کررہا تھا اور اسی نے ان پر کافی کے کپ میں موجود کھولتی ہوئی چیز ان کے چہرے پر پھینک کر حملہ کیا۔پریس ریلیز میں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کپ میں کافی تھی یا کوئی اور مائع چیز موجود تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گرم چیز چہرے پر پھینکنے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی زخمی ہوئیں اور انہیں حملے بعد سیل سے نکالنے کیلئے وہیل چیئر کا استعمال کرنا پڑا ہے۔حملے کے حوالے سے عافیہ صدیقی نے وکیل ماروا ایلبیلی کو بتایا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ حملے کے نتیجے میں میں اندھی نہیں ہوئی۔‘وکیل نے تنظیم کو بتایا کہ میں اپنی آخری ملاقات میں ان کے چہرے پر جلنے کے نشانات دیکھ کر حیران ہوگئی تھی اور ان کی بائیں آنکھ کے پاس بھی نشان تھا جبکہ ان کا دائیاں گال بھی ٹوتھ پیسٹ اور کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں سے ڈھکا ہوا تھا۔تنظیم نے عافیہ صدیقی پر حملے کی خبروں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں اس حملے سے متعلق اطلاع 30 جولائی کو ملی تاہم یہ واقعہ ہوا کب اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔اس حملے کے بعد عافیہ صدیقی کو غیرمعینہ مدت کیلئے قید تنہائی میں رکھ دیا گیا ہے جہاں ان کی انتظامی نگرانی کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں تھی۔عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے معاملے میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب امریکا نے 5 سال بعد یعنی 2008 میں انہیں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائنائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں