وزیراعظم کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے جو ملک میں گاڑیوں کی فروخت کو ترقی سے جوڑ رہے ہیں

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے جو ملک میں محض گاڑیوں کی فروخت کو ترقی سے جوڑ رہے ہیں،کیا یہ گاڑیاں 18ہزار تنخواہ والے غریب لوگ خرید رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے ملک میں ریکار ڈموٹر سائیکلیں اور گاڑیاں فروخت ہونے کے بیان پر ن لیگ کا ردعمل۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ایسے سلیکٹڈ وزیراعظم کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے جو تاریخی مہنگائی کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں محض گاڑیوں کی فروخت کو ترقی سے جوڑ رہا ہے۔۔

عقل کے اندھوں سے پوچھیں کہ کیا یہ گاڑیاں 18ہزار تنخواہ والے غریب لوگ خرید رہے ہیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ملک تباہ ہوگیا تو لوگوں نے موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں کیسے خرید یں؟پہلی بارپاکستانی تاریخ میں موٹرسائیکل اور ٹویوٹا کی ریکارڈگاڑیاں فروخت ہوئیں، سب سے زیادہ موٹرسائیکل دیہاتوں میں خریدے گئے، گروتھ ریٹ 4فیصد ہونے سے ملک اوپر جانا شروع ہوگیا ہے۔بہاولپور میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک جب 83لاکھ کسانوں کی مدد کرگیا تو سمجھو ملک اٹھ گیا، کسان محنت کش لوگ ہیں، ایک مہم چلی تھی کہ جاگیرداروں نے ملک تباہ کردیا، شہروں میں رہنے والے لوگ جاگیرداروں میں فرق نہیں کرسکتے،26ہزار وہ لوگ ہیں جن کی زمین 125ایکڑ سے زیادہ ہے، ٹیکس نہ دینے والے بہت کم ہیں، جو کسان گنا اگاتے ہیں، طاقتور شوگر ملز والے ہیں، ملک میں قانون کی بالادستی نہیں رہی، طاقت کی حکمرانی رہی ہے، قانون کی حکمرانی نہیں رہی، شوگرملز والے طاقتور ہیں، اس لیے وہ کسانوں کو محنت کا پھل نہیں دیتے تھے، طاقتور بڑا نفع کما رہا تھا، ہم نے قانون منظور کیا کہ کس دن شوگر ملز کرشنگ شروع کریں گے۔کسانوں کو پہلی بار گندم، مکئی، گنے کی قیمت ملی، کسانوں کو کمائی کو دوگنا کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، کسان دوگنا کمائے گا تو پیداوار بڑھے گی، اس سے ملک ترقی کرے گا، اور مہنگائی ، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں نیچے آجائیں گی۔ پاکستان جب بنا تھا، مغربی پاکستان آبادی کی 4کروڑ تھی، اب ساڑھے 22کروڑ ہوگئی ہے،جب آبادی بڑھے گی تو ہمیں پیداوار بھی بڑھانا پڑے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں