پاکستان نے افغانستان سے افغان سفیر کی بیٹی تک رسائی مانگ لی

اسلام آباد(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ سامنے آیا تو مجھے دکھ ہوا کیونکہ ہماری اپنی اقدار ہیں،مگر جب تفتیش کے بعد حقائق سامنے آئے تو وہ صورتحال کے برعکس تھے۔ ہم نے دیانتداری سے تحقیقات کیں اور جب افغانستان کے سفیر کو واپس بلایا گیا تو ہم کہا کہ افغان حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ہم نے افغان وزیر خارجہ کیساتھ تمام معلومات شیئر کی اور کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا۔ہمیں مزید تحقیقات کیلئے بچی تک رسائی کی ضرورت ہے۔دو روز قبل افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے افغان وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا،

کیمرا فوٹیجز دیکھیں، سیکیورٹی حکام اور وزرائے خارجہ کے افسران سے ملاقاتیں میں جس میں انہیں واقعے کی مکمل بریفنگ دی گئی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان وفد کو سیف سٹی آفس اسلام آباد لے جایا گیا جہاں انہیں مختلف اوقات اور مختلف مقامات کی کئی ویڈیو فوٹیجرز دکھائی گئیں۔ان ویڈیو میں شکایت کنندہ افغان سفیر کی بیٹی کو واضح طور پر پہنچانا جا سکتا تھا کہ وہ آزادانہ مختلف جگہوں پر گھوم رہی ہے۔ افغان وفد کو شکایت کنندہ افغان سفیر کی بیٹی کے دورہ کردہ تمام مقامات کا دورہ کرایا گیا،افغان وفد کو تکنیکی ڈیٹا بھی پیش کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان وفد کو بتایا گیا کہ سیکیورٹی اداروں نے شکایت کی تفصیلی اور مکمل تفتیش کی،وفد کو بتایا گیا کہ تفتیش اور گواہوں کے بیانات کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمینی حقائق شکایت کنندہ کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کرتے۔پاکستانی حکومت نے کیس کے بعض پہلوؤں پر اضافی معلومات کی فراہمی ، شواہد اور شکایت کنندہ تک رسائی کی سابقہ درخواست کا اعادہ کیا۔وفد کو اسلام آباد میں افغاستان کے سفارتخانے اور اس کے قونصل خانون کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔پاکستانی حکام نے افغان وفد کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے،افغان امن عمل کے اس نازک موڑ پر، پر امن مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقصد کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں