تحریک انصاف کی رکن اسمبلی کے والد اور دیگر نے گھر پر دھاوا بولا، عورتوں کے کپڑے پھاڑدیئے

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی اعزازی رکن صوبائی اسمبلی پنجاب سیمابیہ طاہر کے والد اور دیگر کا کوٹلی ستیاں موضع دھیرکوٹ کی غریب فیملی کے گھر پر دھاوا،آتشیں اسلحہ سے لیس ایم پی اے کے والد،چچا اور خاندان کے دیگر افراد نے گھر میں موجود عورتوں کے کپڑے پھاڑے،تشدد کا نشانہ بنایا،سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور ایک گھنٹہ سے زائد تک ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔ مظلوم خاندان داد رسی کے لئے کوٹلی ستیاں پہنچا مگر ایم پی اے کے پٹھو پولیس نے ایک ہی نہ سنی۔متعلقہ عدالت سے 22/A کا حکم لیکر تھانے پہنچنے پر ایس ایچ او کی مخبری نے کہوٹی بازار میں ایک

مرتبہ پھر ظالم خاندان نے مظلوم حنیف الرحمن اور عورتوں کو سربازار تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔رکن صوبائی اسمبلی کا خاندان 40 سال سے چلتے آئے وجہ عناد 31 کنال3مرلے قطع اراضی پر حکومتی سرپرستی میں قبضے کے خواہاں،3 دن قبل رقبے پر زبردستی باڑ بھی لگا لی۔مظلوم خاندان واضح عدالت احکامات کے باوجود مقدمے کے اندراج سے انکاری پولیس اور ایم پی اے کے خاندان کے ظلم سے تنگ آ کر انصاف کی دہائی لئے اسلام آباد پہنچ گیا۔نمائندہ جناح کو دھیر کوٹ ستیاں کی ڈھوک چھپراں کے رہائشی خلیق الرحمن،محمد حنیف اور عاصمہ بی بی نے بتایا کہ ایم پی اے سیمابیہ طاہر کے والد رشید الحق اور چچا افتخار اور مہتاب کا ان کے ساتھ عرصہ 40 سال سے 31 کنال 3 مرلے اراضی کا تنازع ہے۔سول کورٹ سے لیکر ہائی کورٹ تک اس بابت ہمارے حق میں فیصلے دے چکی ہیں،زمین کا 100 سال سے زائد عرصہ سے قبضہ ہمارے پاس ہے اب جبکہ مذکورہ خاندان کی ایک عورت جس کا نام سیمابیہ طاہر ہے حکمران جماعت کی پنجاب اسمبلی میں اعزازی ممبر ہے کی سرپرستی کے سبب مذکورہ خاندان ہماری جان لینے پر تل آیا ہے، ظالموں نے 23 مئی کو ہمارے گھر اور عورتوں پرحملہ کیا،ہم نے متعلقہ تھانے سمیت سی پی او راولپنڈی کو بھی درخواست دی مگر شنوائی نہ ہوئی۔13 جون کو مذکورہ افراد ایک دفعہ پھر اسلحے سے لیس ہو کر ہمارے گھر پر حملہ آور ہوئے،گھر میں کوئی مرد موجود نہ ہونے کے سبب عورتوں پر تشدد کیااور ان کے کپڑے پھاڑدیئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں،پولیس

کے مسلسل نظر انداز ہونے پر مجاز عدالت سے 22/A کا حکم لیکر 6 اگست بروز جمعہ کو ایس ایچ او کوٹلی ستیاں تک پہنچے تو اس نے ظالم خاندان کو مخبری کر دی۔تھانے سے واپسی پر مذکورہ افرادنے ایک دفعہ پھر ہمارا راستہ روکا اور کہوٹی بازار میں جم غفیر کی موجودگی میں محمد حنیف اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔پاکستان تحریک انصاف کی اعزازی ایم پی اے کے خاندان ظلم سے تنگ فیملی نے وزیر اعظم پاکستان،وزیراعلی پنجاب،ایم این اے صداقت علی عباسی سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف کے حصول کیلئے مدد کی اپیل کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر اب بھی ہمیں انصاف

نہ ملا تو ہم بنی گالہ وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پورے خاندان کے ہمراہ اجتماعی خود سوزی کریں گے۔ آن لائن کے رابطہ کرنے پر رکن صوبائی اسمبلی پنجاب سیمابیہ طاہر نے اقرار کیا کہ مذکورہ خاندان سے ان کا پرسوں سے زمین کا تنازع چل رہا ہے گزشتہ دنوں ان کے والد،چچا اور خاندان کے دیگر افراد کی طرف سے مذکورہ فیملی کے گھر حملہ آور ہونے کے معاملے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی موقف اپنایا کہ مجھے اس معاملے کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی انہوں نے اس بابت پولیس یا تحصیل انتظامیہ پر کوئی سیاسی دباؤ ڈالا ہے،اگر پولیس کے

متعلقے ادارے کسی کی داد رسی نہیں کرتے جس کے ذمہ دار ادارے ہیں میں نہیں۔د وسری جانب تھانہ کوٹلی ستیاں میں تعینات عارضی ایس ایچ او قیصر قریشی نے آن لائن کے رابطہ کرنے پر جھوٹ بولا کہ متاثرہ فیملی ان کے پاس عدالتی حکم نامہ لیکر نہیں آئی،جب انہیں بتایا گیا کہ 6 اگست کو مجاز عدالت کا حکم نامہ افسر مجاز کو جمع کرایا جا چکا ہے تو اس پر ایس ایچ او بادشاہ طیش میں آگئے اور کہا کہ وہ کسی کو جواب دہ نہیں،انہوں نے دھمکیاں آمیز رویہ میں کہا کہ ان سے سوال کرنے کی جرات کیسے کی اور ایم پی اے کے دباؤ پر مقدمہ درج نہ کرنے بابت سوال کا جواب دیئے بغیر فون کاٹ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں