نوازشریف کا ویزا مسترد کرنے کیلئے جمائما کی فیملی کی طرف سے پریشر ڈالے جانے کا انکشاف

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔جس کے بعد حکومت اور ن لیگ کے درمیان لفظی جنگ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔اس حوالے سے سینئر صحافی نجم سیٹھی کی جانب سے بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔انہوں نے ایک پروگرام کے دوران تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے براہ راست پریشر آیا ہے۔آدھی چڑیا کی خبر یہ ہے کہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی فیملی کی جانب سے بھی پریشر ڈالا گیاہے۔جمائما کے بھائی زیک گولڈ اسمتھ کنزویٹو پارٹی کے اہم رہنما ہیں۔

خبر تو یہی تھی کہ ان کی طرف سے بھی بہت پریشر ڈالا گیا،نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ اگر برطانوی حکومت نے نواز شریف کی ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد کی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نوازشریف کو وہ ڈی پورٹ کر دیں گے۔برطانوی ہوم آفس کی تاریخ دیکھیں تو کسی بھی سابق منتخب صدر یا وزیراعظم نے لندن میں پناہ لی ہو تو چاہے جو بھی وجہ ہو برطانوی حکومت نے کبھی انہیں ڈی پورٹ نہیں کیا۔نوازشریف کی حوالگی سے متعلق دونوں حکومتوں میں رابطے ہوئے لیکن اس کے لیے برطانیہ کے قوانین پر عمل کرنا لازم ہو گا۔انسانی حقوق کے حوالے سے برطانیہ کے قانون بہت سخت ہیں۔بھارت سے بھاگے ہوئے کئی معروف بزنس مین بھی لندن میں ہیں۔بھارت کی حکومت بہت عرصے سے ان کی حوالگی کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن برطانوی حکومت بھارت کو اس حوالے سے گھاس نہیں ڈال رہی ،اس لیے مجھے لگتا ہے کہ برطانوی حکومت نوازشریف کو پاکستان واپس نہیں بھیجے گی۔ان کی روایت ہے کہ وہ مقبول شخصیات اور منتخب رہنے والی سیاسی شخصیات کو پناہ دیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے وہ دوبارہ اقتدارمیں آئیں گے تو ان کے ساتھ اچھے روابط ہونے چاہئیے۔نوازشریف کو برطانیہ میں ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ انہیں زبردستی واپس پاکستان بھیجا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں