عون چودھری کے استعفے پر ترین گروپ پھٹ پڑا، سخت ردعمل دیدیا

لاہور (نیوز ڈیسک)عون چودھری نے وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور کے عہدے سے استعفیٰ دیا جس پر اب ترین گروپ کا رد عمل بھی آ گیا ہے۔ ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض نے کہا کہ ہم عون چودھری کی جرأت و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ استعفے دے دیں گے لیکن جہانگیر ترین کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ہم مشترکہ فیصلہ کریں گے۔دباؤ ڈال کر استعفے لینے سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عون چودھری سے استعفیٰ طلب کیا گیا

جس پر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ عون چودھری کو آج وزیراعلیٰ ہاؤس طلب کیا گیا جہاں ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔عون چودھری نے اپنا تحریری استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دیا۔میڈیا ذرائع نے بتایا کہ عون چودھری ترین گروپ کے سرگرم رہنما ہیں۔ عون چودھری پر اراکین اسمبلی کو ترین گروپ میں لانے کے لیے لابنگ کرنے کا الزام بھی ہے۔ استعفے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عون چودھری کا کہنا ہے کہ مجھے آج وزیراعلیٰ آفس بلوا کر ترین گروپ سے علیحدگی کا کہا گیا، جہانگیر ترین کے گروپ سے علیحدگی سے انکار پر مجھے استعفٰی دینے کا کہا گیا۔جہانگیر ترین کی پارٹی کے لیے خدمات سب جانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن ترین گروپ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ پارٹی کے لیے بے لوث خدمات سرانجام دینے والے شخص کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔ مشیر وزیر اعلیٰ عہدے پر رہنے کی بجائے جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دوں گا۔ عون چودھری نے پارٹی اور حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سیاسی خدمات کا یہ صلہ دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں