ترکی کے جنگلات میں آگ کس طرح لگی، ترک صدر نے سازش بے نقاب کردی

استنبول(نیوز ڈیسک) ترکی کے جنگلات میں لگی خوفناک آگ سازش قرار دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے ، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اشارے ملے ہیں کہ آگ لگنے کے واقعات کے پیچھے کوئی سازش ہو سکتی ہے جس کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ، آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کی ٹیم میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور آگ بجھانے میں صرف 6 ہیلی کاپٹرز کی تعداد کو بڑھا کر 13 کر دیا گیا ، جس میں روس ، یوکرائن اور ایران کے طیارے شامل ہیں۔خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے جنگلات

میں لگی آگ کے باعث چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جب کہ 180 افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے ، ترک حکام کے مطابق بحیرہ ایجین اور روم سے متصل 17 صوبوں میں 60 کے قریب مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، فائر فائٹرز آگ بجھانے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اب تک 36 مقامات پر لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے تاہم مزید 17 مقامات پر آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ترک انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ صدر اردگان نے بھی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اسی حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ترکی کے جنگلات میں آتشزدگی سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے، شاہد آفریدی نے ترکی میں پیش آنیوالے آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’’یہ دیکھنا دلخراش ہے کہ آگ نے ترکی کے کئی علاقوں کو تباہ کردیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے مقامی لوگوں اور جانوروں کی زندگیوں کا نقصان ہوا‘، انہوں نے ترک عوام کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ ’میری دعائیں فائر فائٹرز، امدادی کارکنوں اور شہریوں کے ساتھ ہیں جو آگ کا مقابلہ کررہے ہیں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں