پنشن قومی خزانے پر بوجھ بن گئی، حکومت ادائیگیوں سے قاصر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے نومبر 2020ء سے اکائونٹ کے ذریعے پنشنز کی ادائیگی کا حتمی فیصلہ کرلیا ۔ اس سلسلے میں معروف صحافی سہیل اقبال بھٹی نے اپنی یوٹیوب وڈیو پر بتایا ہے کہ 18لاکھ میں سے13لاکھ پنشنرز کو ادائیگی بینک اکائونٹ سے نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اکتوبر2020ء سے بغیر اکائونٹ پنشن لینے کا سلسلہ ختم کردیا جائے گا جس کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ان تمام افراد کے بینک اکائونٹ کھولے جائیں جس کے بعد نومبر2020ء سے اکائونٹ کے ذریعے پنشن کی ادائیگیاں کی

جائیں گی جس سے یہ تصدیق ہوسکے گی کہ پنشن متعلقہ افراد کو ہی مل رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی اداروں کے پنشنرز کی مجموعی تعداد 18لاکھ تک پہنچ چکی ہے جنہیں کی جانے والی ادائیگیوں کے حجم میں گزشتہ 3سالوں میں 146ارب روپے اضافے کے ساتھ 448ارب تک پہنچ چکا ہے، وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پنشن لینے والوں کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اب ہم پنشن ادا کرنے کے قابل نہیں رہے، وزیراعظم کو بتا گیا کہ بہت سی کمپنیاں پنشن کی مد میں رکھی گئی رقم کو کہیں انویسٹ کرتی ہیں اور اس سے ہونے والی آمدنی کے نتیجے میں پنشن ادا کی جاتی ہے جبکہ وفاقی سطح پر اس قسم کا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے پنشن کی مد میں قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ رواں مالی سال میں 470ارب روپے تک پہنچ جائے گا، وزیراعظم نے جب اس بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ کچھ کمپنیوں نے خلاف قانون پنشنز میں اضافہ کیا جہاں ان کمپنیوں میں بیٹھے افسران نے حکومت کو بتائے بغیر پنشن میں بے پناہ اضافہ کیا جس کو وزارت خزانہ کی طرف سے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے،وزیراعظم کی ہدایت پر ان کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ سے سفارشات بھی طلب کرلی ہیں اور کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں تاکہ حکومت اس پر کوئی واضح فیصلہ کرسکے تاکہ قومی خزانہ پر پڑنے والے اس 470ارب روپے کے بوجھ سے نمٹا جاسکے، وزیراعظم کی ہدایت میں اپریل میں پے اینڈ کمیشن بنا جس کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے

سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اس کمیشن کے چیئرمین طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے اس پر کام نہیں ہوسکا تاہم اب ماضی کی حکومتوں کی طرف سے پنشن کی مد میں کیے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کے سلسلے میں ورلڈ بینک کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں جس کا پی سی ون تیار کیا جاچکا ہے جس کے تحت ورلڈ بینک نظام کی بہتری کیلئے ناصرف فنڈز بلکہ اپنی خدمات بھی فراہم کرے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.