لاہوریوں کو ایک مرتبہ پھر سے مردہ گوشت کھلانے کی کوشش

لاہور(نیوز ڈیسک) ملک بھر میں منافع خور اور بے ضمیر افراد شہریوں کو اپنے فائدے کے لیے کم قیمت پر ملنے والا مردہ گوشت کھلاتے ہیں اور خوب پیسے کماتے ہیں، نتیجہ یہ کہ شہریوں میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مردہ گوشت اور مضر صحت کھانے فروخت کرنے والوں کے خلاف کئی مرتبہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بھی چھاپے مارے گئے اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جو شہریوں کی زندگی اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے تھے۔تاہم اب پولیس نے لاہوریوں کو مردہ گوشت کھلانے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے مردہ گوشت فروخت کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان عرصہ دراز سے مردہ جانوروں کا گوشت فروخت کر رہے تھے۔پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ملزمان کو ایک لوڈر رکشہ روک کر گرفتار کیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مردہ بھینس کا گوشت لوڈر رکشہ پر سبزہ زار لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس نے دوران پٹرولنگ رکشے کو رکنے کا اشارہ کیا۔ رکشہ رکنے پر انکشاف ہوا کہ ملزمان مردہ گوشت لے جارہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے مردہ بھینس کا گوشت ترپال سے ڈھانپ رکھا تھا ۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان عرصہ دراز سے مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کا گھناؤنا کاروبار کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت طاہر، شہزاد اور فاروق کے نام سے ہوئی جن کے خلاف خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمان سے کی جانے والی تفتیش میں پتہ چلا کہ ملزم طاہر اور شہزاد پیشہ ور قصائی ہیں جبکہ فاروق لوڈر رکشے پر گوشت لے جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی ۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button