ہائیکورٹ کیپٹن صفدر پر مہربان ، لیگی رہنما کو بڑی خوشخبری سنادی

پشاور(نیوز ڈیسک) ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔جسٹس لعل جان کی سربراہی میں پشاور ہائی کورٹ کے فاضل بینچ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کیپٹن(ر) محمد صفدر کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت عالیہ نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔عدالت سے ضمانت کی منظوری کے بعد محمد صفدر نے ہائیکورٹ میں شکرانے کے نفل ادا کیے۔عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ

صفدر نے کہا کہ ضمانت ملنے پر خوش ہوں، انصاف ملنے پر پشاور ہائی کورٹ کا شکر گزار ہوں، مدینہ منورہ میں مانگی گئی دعائیں قبول ہو گئیں۔واضح رہے کہ نیب کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ اور فنڈز میں خردبرد کی انکوائری کررہا ہے، نیب کی جانب سے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جاچکے تھے جس پر کیپٹن(ر) صفدر نے نیب گرفتاری سے بچنے کیلئے درخواست قبل ازگرفتاری دائر کی تھی۔دوسری جانب لاہور کی سیشن کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں جاوید لطیف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جاوید لطیف کا متنازع بیان اپنے لیڈر کی محبت میں حدود سے تجاوز کے مترادف ہے، جاوید لطیف کے کیس میں لگائی گئیں دفعات قابلِ ضمانت نہیں، اس مرحلے پر جاوید لطیف کی ضمانت نہیں بنتی۔عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد جاوید لطیف کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد پولیس نے (ن) لیفگی رہنما کو گرفتار کرلیا۔اپنی گرفتاری سے قبل جاوید لطیف نے وڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا لپ یہ ہے پاکستان جس میں آپ دہشت گردوں کو تو چھوڑتے ہیں لیکن خرابیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو غدار کہا جاتا ہے، انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہوتے ہیں، جہانگیر ترین اگر غلط کام کررہے تھے تو عمران خان کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے کہ میں آپ کو انصاف دوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں