کورونا کا پھیلاؤ ، وفاقی حکومت نے مزید پابندیوں کا اعلان کردیا

اسلام آباد (نیوز دیسک) اسد عمر نے کہا ہے کہ لوگ بالخصوص خواتین عید کی شاپنگ ابھی سے کرلیں کیونکہ ہوسکتا ہے آگے لاک ڈاؤن لگ جائے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کوویڈ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء اور اعلی صوبائی حکام نے شرکت کی اور صوبائی وزرائے اعلی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں کورونا پابندیاں مزید سخت کرنے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں سربراہ این سی او سی اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ ہوسکتا ہے ایسی صورتحال پیدا ہو کہ شہروں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑے،

عید تک آؤٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے تاہم صرف ٹیک اوے اور گھر پر کھانا پہنچانے کی اجازت ہوگی، جم اورایکسرسائز سنٹرز پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ دفاتر 2 بجے بند کردیے جائیں اور 50 فیصد سے زیادہ لوگوں کو نہ بلایا جائے، جن علاقوں میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہے وہاں اسکول عید تک بند کیے جائیں گے جن میں میٹرک اور انٹر کلاسز بھی شامل ہیں، بازار شام 6 بجے تک کھلیں گے، اس کے بعد صرف اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلیں گی، افطاری کے بعد بازار نہیں کھلیں گے، خواتین عید کی شاپنگ دن میں کریں اور ابھی سے شروع کردیں، آخری دنوں کا انتظار نہ کریں کیونکہ ہوسکتا ہے آگے لاک ڈاؤن کردیا جائے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ آکسیجن کے استعمال کی 90 فیصد پیداواری صلاحیت تک پہنچ گئے ہیں، اس میں سے 80 فیصد کورونا اور صحت کے لیے استعمال ہورہی ہے، اس کی سپلائی کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور باہر سے بھی درآمد کرسکتے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم نے کہا ہے کہ فوج ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے پولیس کی مدد کرے گی، لاک ڈاؤن نہیں کر رہے، لوگوں نے احتیاط نہ کی تو سب کچھ بند کرنا پڑے گا، مثبت کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا، گھر سے باہر جاتے ہوئے ماسک استعمال کریں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، بہت کم لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد کر رہے ہیں، شہری ماسک کا استعمال ضرور کریں، ماسک پہننے سے آدھا مسئلہ حل ہو جائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہے، ہمارے ہاں وہ حالات نہیں جو ہندوستان میں ہیں، بھارت جیسے حالات ہو گئے تو شہر بند کرنا پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لوگ آج کہہ رہے ہیں لاک ڈاؤن کر دیں، لاک ڈاؤن اس لیے نہیں کر رہا کیوں کہ مزدور اور غریب طبقہ متاثر ہوگا۔ ہماری مساجد میں ایس او پیز پر عمل ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں