ہمیشہ ساتھ رہنے والے دو دوست ، جو کوئٹہ دھماکے میں دنیاسے رخصت بھی اکٹھے ہوئے

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) گذشتہ روز کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی چوک کے قریب زرغون روڈ پر نجی ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 15 زخمی ہوئے۔ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں شفٹ منیجر شاہ زیب اور محکمہ جنگلات کا ملازم ایمل کاسی بھی موجود تھے۔ اپنی زندگی میں ساتھ وقت گزارنے والوں نے موت کو بھی اکٹھے ہی گلے لگایا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایمل کانسی کے کزن ایاز خان بازئی نے بتایا کہ ایمل خان کانسی کے اہلِ خانہ اُن کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے،

جو عید کے بعد ہونا تھی۔ ایمل چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، شاید اسی لیے ان کی شادی دھوم دھام سے ہونا تھی۔لیکن کوئٹہ میں گذشتہ رات ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی نے (ان کے خاندان سمیت) کئی لوگوں کو زندہ درگور کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ ایمل اکثر اوقات سرینا ہوٹل میں ملازمت کرنے والے اور گذشتہ رات اُن ہی کے ساتھ ہلاک ہونے والے اپنے دوست شاہ زیب شاہد سے ملنے اور کافی پینے جایا کرتے تھے۔ واقعہ کے روز بھی وہ شاہ زیب سے ملاقات کرنے گئے ہوئے تھے۔ بظاہر شاہ زیب اپنے دوست ایمل خان کو باہر پارکنگ میں ملنے یا الوداع کرنے گئے تھے جہاں پر ہونے والے دھماکے میں دونوں کی جانیں چلی گئیں۔ایاز خان بازئی نے بتایا کہ گھر سے جاتے ہوئے ایمل خان کانسی نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ سرینا میں کافی پینے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا تھا کہ وہ شاہ زیب شاہد سے ملنے جا رہے ہیں۔ وہ دونوں اکثر دن کا کوئی نہ کوئی وقت ساتھ گزارتے تھے۔ کوئٹہ میں دونوں کے ایک مشترک دوست صبور خان کا کہنا تھا کہ ایمل خان کانسی اپنی شادی کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے اور ان کی شاہ زیب شاہد کے ساتھ ہونے والی آخری ملاقات درحقیقت شادی کے فنکشن کے حوالے سے تبادلہ خیال اور مشوروں سے متعلق رہی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ جس محفل اور گروپ میں ایمل موجود ہوتے تھے وہاں ان کی دلچسپ باتیں قہقہے بکھیر رہی ہوتی تھیں۔ دلاور نے مزید بتایا کہ ہمارے زمانہ طالبعلمی میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن میں ہمارے کلاس

فیلوز کے لیے فیس اور دیگر اخرجات کی بنا پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس موقع پر ایمل خان کانسی میدان میں آتے اور ایسے طالب علموں کے لیے نہ صرف فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم چلاتے بلکہ خود بھی اس میں حصہ ڈالتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایمل کی وجہ سے کئی لوگ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب ہوئے اور آج وہ کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں