ن لیگ اور جےیوآئی بھی فیک نیوز پھیلانے میں شامل ہے،وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 380 بھارتی گروپ واٹس ایپ پر فیک نیوز چلا رہے تھے، 4 لاکھ ٹویٹس میں70 فیصد فیک اکاوَنٹس سے کی گئیں، ن لیگ اور جےیوآئی بھی فیک نیوز پھیلانے میں شامل ہے، ن لیگ والے انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ مل گئے۔ وزیراعظم نے کالعدم ٹی ایل پی ایشو پر سرکاری ٹی وی پر براہ راست قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتے کے افسوسناک واقعات کے بعد خطاب کا فیصلہ کیا۔نبی اکرم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ شان رسالت ﷺ میں گستاخی سے تمام مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

ٹی ایل پی کا جو مقصد ہے وہی میرا مقصد ہے۔ دونوں کے مقاصد ایک ہیں لیکن طریقہ کار مختلف ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔ ٹی ایل پی اور ہمارے طریقے کار میں فرق ہے۔ ٹی ایل پی کہہ رہی ہے کہ فرانس سے رابطے ختم کیے جائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ سن 1990 کے قریب سلمان رشدی نے ایک کتاب لکھی، اس کتاب میں اس نے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی، پاکستان میں عوام سڑکوں پر نکلی، یہاں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور لوگوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، اس کے بعد آپ دیکھیں مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے جس پر کبھی کبھار باہر ممالک میں ردعمل بھی آتا ہے، یہاں ہمارے ملک میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا اس طرز عمل سے کوئی فرق پڑا، یہی سوچ ٹی ایل پی کررہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ایکشن نہ لیں تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا اور ان سے تمام تعلقات ختم کردینے سے یہ سب رک جائے گا، کیا کوئی گارنٹی ہے کہ اس کے بعد کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ میں مغرب کو جانتا ہوں اور میں آپ کا گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر پاکستان یہ کرے گا تو اس کے بعد کسی اور یورپیئن ملک میں آزادی اظہار رائے کے نام پر یہی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب دیگر ممالک کو پتہ چلا گا کہ ہم نے ایسا کیا ہے تو بھی آزادی اظہار کے نام

پر یہی کریں گے تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی واپس بھیجیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 50 مسلمان ملک ہیں، کہیں بھی اس طرح مظاہرے نہیں ہوئے، کوئی بھی اس طرح نہیں کہہ رہا اور وہ بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ سفیر کو واپس بھیجو۔انہوں نے کہا کہ سفیر واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا کیونکہ ہماری معیشت بہت مشکل سے اٹھ رہی ہے، بہت عرصے کے بعد پاکستان میں انڈسٹری اوپر جا رہی ہے، لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارا روپیہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے لیکن

اگر ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیج کر تعلقات توڑیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم یورپی یونین سے تعلقات توڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری آدھی ٹیسٹائل کی ایکسپورٹس یورپی یونین میں جاتی ہیں تو تعلقات ختم کرتے ہیں تو آدھی ٹیسٹائل ایکسپورٹ ختم ہو جائیں گی، اس کا مطلب بے روزگاری ہو گی اور فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور ہمارے روپے پر بھی دباؤ پڑے گا، روپیہ گرے گا، مہنگائی بڑھے، غربت بڑھے گی، تو نقصان ہمیں ہو گا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکومت کے دو ڈھائی مہیئنے سے تحریک لبیک سے مذاکرات جاری تھے، ہم ان کو یہی چیزیں سمجھا رہے تھے کہ اس سے نقصان ہمیں اور ہمارے عوام کو ہو گا، مذاکرات جاری تھے اور انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں معاملہ لائیں اور اسمبلی جو فیصلہ کرتی ہے وہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں