جہانگیر ترین کے بعدحکومت کے ایک اور اہم وزیر بھی ایف آئی اے کے ریڈار پر آ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی حکومت نے احتساب کا نعرہ پہلے دن سے بلند کیا تھااور پھر حکومت میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا تیجہ بیچاری عوام کو بھی بھگتناپڑا۔کیونکہ حکومت کی ساری توجہ فارن فنڈنگز پر تھی جبکہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں کسی کا بھی کوئی کردار نہیں تھا۔تاہم اپوزیشن کی طرف سے حکومت پر الزام جاتا تھا کہ وہ احتساب سب کا نہیں بلکہ سلیکٹڈ احتساب کر رہے ہیں۔لہٰذا اب کچھ عرصہ قبل شوگر انکوائری کمیشن کیس میں جہانگیر ترین کا نام آیاتو اس کے گرد شکنجہ کس دیا گیا کہ حساب کتاب برابر ہو جائے۔مگر معاملہ یہاں ختم نہیں

ہوا بلکہ اب خسرو بختیار کا انام بھی سامنے آنے لگاہے اور اس کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نصراللہ دریشک کی شوگر مل کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے انڈس شوگر ملز کی انتظامیہ کو 15 اپریل کو طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ انڈس شوگر ملز انتظامیہ سے سال 20۔2021 میں شوگر کی پیداوار کو فروخت کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈس شوگر ملز انتظامیہ سے شوگر کی پیداوار و فروخت کا ایف بی آر کو جمع کروایا گیا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی کی شوگر مل سے سٹّے کے ذریعے فروخت اور بُک کی گئی چینی کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ سٹّے کے ذریعے فروخت کی گئی چینی کے ڈیلرز اور بروکرز کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈس شوگر ملز کی انتظامیہ کو شوگر ملز اور سٹّے بازوں کے باہمی روابط اور آپسی لین دین کی تفصیلات بھی ہمراہ لانے کا کہا گیا ہے۔خیال رہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی کی شوگر مل کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں