قائداعظم زندہ ہوتے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ضرور نظرثانی کرتے،سینئرصحافی کادعویٰ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ قائداعظم زندہ ہوتے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ضرور نظرثانی کرتے، دعویٰ کیا جارہا ہے کہ علامہ اقبال اور قائداعظم اسرائیل کے خلاف تھے، علامہ اقبال اور قائداعظم کی مخالفت کی وجہ ترکی اور خلافت عثمانیہ تھی، جب 1949ء میں ترکی نے مان لیا تھا تو قائداعظم بھی زندہ ہوتے تو فیصلے پر نظرثانی کرتے۔تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار جاوید چودھری نے 25 اگست کو روزنامہ ایکسپریس میں شائع اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دو ہفتوں سے بحث چل رہی ہے کیا پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے علامہ اقبال اور قائداعظم اسرائیل کے خلاف تھے‘ یہ دعویٰ سو فیصد درست ہے بانیان پاکستان واقعی اسرائیل کے خلاف تھے لیکن دنیا میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی بیک گراؤنڈ ہوتی ہے اور ہم جب تک وہ بیک گراؤنڈ نہ جان لیں ہم ایشوز کو نہیں سمجھ سکتے اور علامہ اقبال اور قائداعظم کی مخالفت کی وجہ ترکی اور خلافت عثمانیہ تھی۔جاوید چوہدری نے مزید لکھا کہ برطانیہ نے 1948ء میں فلسطین پر اپنا قبضہ چھوڑ دیا اور یہودیوں نے اسرائیل کے نام سے ملک بنا لیا۔ روس، امریکا اور یورپ نے بھی اسے فوراً تسلیم کر لیا۔ ترکی نے بھی 1949ء میں اسرائیل کو مان لیا۔ اب سوال یہ ہے اگر قائداعظم اور علامہ اقبال 1949ء میں حیات ہوتے تو کیا وہ اپنے آپ کو’’ ری پوزیشن‘‘ کرتے یا پرانے موقف پر قائم رہتے؟ میرا خیال ہے یہ بھی اپنی پوزیشن بدل لیتے۔جاوید چوہدری کا مزید لکھنا تھا کہ اگر علامہ اقبال اور قائداعظم کی مثال ہی لے لیں تو ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ بھی علامہ اقبال نے لکھا تھا اور قائداعظم بھی 1920ء تک ہندو مسلم بھائی بھائی کے حامی تھے۔ قائداعظم پہلے کانگریس کا حصہ تھے لیکن پھر حالات نے علامہ اقبال اور قائداعظم دونوں کو دو قومی نظریے کا داعی بنا دیا۔ یہ دونوں ری تھنکنگ پر مجبور ہوگئے۔جاوید چوہدری کے مطابق میرا خیال ہے اگر قائداعظم اور علامہ اقبال 1950ء تک حیات ہوتے تو یہ بھی اسرائیل کے ایشو پر’’ری تھنک‘‘ ضرور کرتے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ قدم انہوں نے ترکی کی محبت اور برطانیہ کی نفرت میں اٹھایا تھا اور برطانیہ نے 1948ء میں فلسطین چھوڑ دیا تھا اور ترکی نے 1949ء میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.