ملک بھر میں شادی کی ان ڈور، آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی عائدکردی گئی

لاہور (نیوز ڈیسک )پاکستان میں کورونا سے بچاؤ کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے عالمی وبا کے کیسز بڑھنے کے باعث ملک بھر میں انڈور اور آؤٹ ڈور شادی کی تقریبات پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔این سی او سی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آج ہونے والے اجلاس میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کورونا پھیلاؤ کے علاقوں میں 29 مارچ سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے اور این سی او سی صوبوں کو کورونا

پھیلاؤ کے ہاٹ اسپاٹ کے نقشے فراہم کرے گی، صوبے اس سے پہلے بھی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی لگا سکتے ہیں۔این سی او سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام انڈور اور آوٹ ڈور سرگرمیوں پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوشل، کلچرل، سیاسی، جلوسوں سمیت تمام تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی، 5 اپریل سے ملک بھر میں انڈور اور آؤٹ ڈور شادی کی تقاریب پر بھی پابندی ہوگی اور عائد کی گئی پابندیاں فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی اور پابندیوں کا اطلاق 8 فیصد سے زائد مثبت کیسز کے اضلاع اور شہروں میں ہوگا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کم کرنے کے آپشن کا بھی جائزہ لیا گیا، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ سے متعلق حتمی فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائےگا، تمام زمینی، فضائی اور ریلوے کا ڈیٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔این سی او سی کی جانب سے صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ ویکسی نیشن کا ٹارگٹ مقررہ وقت میں پورا کریں۔اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کرونا کی تشویش ناک صورت حال کے بعد پنجاب میں ماسک کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ جب کہ صوبے بھر میں شادی کی تقریبات پر پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، حتمی فیصلہ پیر 29 مارچ کو ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ماسک نہ پہننے پر جرمانے اور 6ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے5 بڑے شہروں میں کرونا کی شدت زیادہ ہے۔

کرونا وائرس سے متعلق بازاروں اور مارکیٹوں کے بارے میں ترجیحات طے کرکے کل میڈیا سے شیئر کریں گے۔دوسری جانب لاہورمیں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 23 فیصد ہو گئی ہے، سیکریٹری صحت پنجاب کا کہنا ہے صوبے کےآئی سی یوز میں 214 مریض ہیں۔ لاہور میں 15 روز کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں