پہلی بار گندم کی سرکاری امدادی قیمت میں400 روپے فی من اضافہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے فی من گند کی امدادی قیت 1800 روپے مقرر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر قومی تحفظ سید فخر امام اور صوبائی وزیرخوراک عبدالعلیم خان کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔ وفاقی وزیر فخر امام نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں گندم سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں گندم کی امدادی قیمت کے حوالے سے تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔گندم کی کم سے کم سرکاری امدادی قیمت 1800 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جبکہ حکومت نے رواں سال گندم کا پیداواری ہدف 26 ملین ٹن سے زائد مقرر کیا ہے ۔

وفاقی وزیر کے مطابق عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ملک میں گندم کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی۔گندم کادرآمدی تخمینہ 30 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے، 3لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ بھی رکھا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق پہلی بار ملک میں اچھے بیجوں کی بوائی کا جائزہ لینے کیلئے نظام وضع کیا گیا۔ جبکہ صوبائی وزیرخوراک عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ پہلی بار گندم کی سرکاری ا مدادی قیمت میں ایک سال میں 400 روپے فی من کا اضافہ کیا گیا، کسانوں سے ان کی تمام پیداوار 1800 روپے من کےحساب سے فوری خریدی جائے گی، امدادی قیمت میں اضافے کا فائدہ کسانوں اور کاشتکاروں کو ہوگا سرکاری امدادی قیمت میں اضافے سے ملک کا کسان خوشحال ہو گا۔عبدالعلیم نے مزید کہا کہ گندم کی سرکاری قیمت بڑھانے کے باوجود آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دی جائے گی، آٹے کی تمام ملوں کو رعایتی نرخوں پر پورا سال گندم کی فراہمی جاری رہے گی، پہلے ہی گندم اور آٹے پر80ارب روپے کی سبسڈی دے چکے ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے تو گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے فی من مقرر کر دی گئی، تاہم کسانوں کی جانب سے قیمت 2000 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے پاکستان کسان اتحاد نے موقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من ہے، جبکہ سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے ہے، پنجاب میں بھی گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے کی جائے،

کیونکہ گندم کی امدادی قیمت کم ہونے سے اسمگلنگ ہوگی، جس سے فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ اور کسانوں کا معاشی استحصال ہوگا۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے31 مارچ تک گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ نہ کیا تو لاہور اور اسلام آباد کی جانب ٹریکٹر مارچ کریں گے۔کسانوں کو موجودہ مہنگائی کے دور میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، زرعی آلات ٹریکٹر اور کھادیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ جبکہ گندم کی امدادی قیمت بھی کم ہے، کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے گندم کی امدادی قیمت میں فوری اضافے کا اعلان کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں