امریکی شہریت چھوڑنے کی تاریخ پوچھنے پر فیصل واوڈا صحافی سے الجھ پڑے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق تاریخ پوچھنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واوڈا صحافی سے الجھ پڑے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن مین کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب پی ٹی آئی رہنماء فیصل واوڈا سے ایک صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی شہری چھوڑی ہے؟ اس کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے نو منتخب سینیٹر فیصل واوڈا نے سوال کا جواب تو نہیں دیا البتہ صحافی سے کہنے لگے کہ آپ وی لاگ میں میرے خلاف جو چیزیں کر رہے ہیں انہیں آج مزید

2 گھنٹے کے لیے کریں ، آپ اپنا کام کریں اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔انہوں نے صحافی مطیع اللہ جان کو مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے وی لاگ بنانا ہے اس میں جو مصالحہ لگائیں گے اگر کم پڑ جائے تو مجھ سے لے لینا ، شاید آپ کے یہ سفید بال تو کم ہوجائیں لیکن مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ، آپ بس اپنا وی لاگ بنائیے گا اور لوگوں کو بتائیے گا کہ میں جھوٹا مصالحہ لگاؤں گا ، ضرورت پڑے تو شان کا لینا اگر پیسے کم پڑجائیں تو وہ بھی مجھ سے لے لینا۔قبل ازیں الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس کی سماعت کے دوران فیصل واوڈا جذباتی ہوگئے ، انہوں نے کہا کہ اگر میں غلط ہوں تو مجھے بے شک پھانسی چڑھا دیں۔ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت ہوئی ، چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سماعت کی ، جس میں پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ اگر اس سارے معاملے میں میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن پہلے مجھے سنیں ، میرے خلاف سیاست کی گئی ، بد نام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، میرا پورا کیریئر ہے ، فیملی ہے میری ساکھ کونقصان پہنچایا گیا ، اس کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو پورا موقع دیں گے ، پوائنٹ ٹوپوائنٹ بات کریں یا وکیل پہلے بولیں یا واوڈا صاحب؟۔اس کے بعد نومنتخب سینیٹر کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ فیصل واوڈا کے خلاف درخواستیں مسترد کی جائیں اور وہ قومی اسمبلی کی سیٹ سےاستعفیٰ دے چکے لیکن کمیشن پہلے سے ہی مائنڈ بناکر بیٹھا ہے ، جس پر ممبرالطاف ابراہیم قریشی نے کہا

یہ کیا بات ہے کہ ہم مائنڈ بناکر بیٹھے ہیں ، ایک سال سے معاملہ زیر سماعت ہے ، مائنڈ بناکر بیٹھے ہوتے تو کیا کیس میں اتنا وقت لیتے؟۔فیصل واوڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لانہیں ہے ، الیکشن کمیشن ٹربیونل بنا سکتا ہے ، انکوائری کرسکتاہے، آر او، ٹربیونل میں فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی چیلنج نہیں کیے گئے جب کہ فیصل واوڈا کاحلف نامہ بالکل درست ہے، ایک روپے کا جھوٹ نہیں بولا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا فیصل واوڈا کے قومی اسمبلی نشست پراستعفے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے ، الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ درخواستوں کے غیر مؤثر ہونے پر دلائل دیں۔ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا آئندہ سماعت پر کسی فیصلہ تک پہنچیں گے ، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی سینیٹ امیدوار کی درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button