بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کے خواہشمند افراد ہوجائیں خبردار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواستگزار محمد جمیل کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق مہر معجل ہو یا غیر معجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا، دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔خیال رہے کہ پشاور کے رہائشی

محمد جمیل نے اہلیہ کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔یاد رہے کہ سلامی نظریاتی کونسل نے دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔اسلام نظریاتی کونسل نے سینیٹ کی قانون وانصاف کمیٹی میں14-2013 کی رپورٹ جمع کروائی، چھ سال2014 میں قبل اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز دی تھی پاکستانی قوانین میں تبدیلی کی جائے جن کے مطابق کم عمری میں شادی پر پابندی ہے اور کسی مسلمان مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازم ہے۔قبل ازیں2014 میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کم عمری میں شادی پر پابندی کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ کونسل کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کم عمری کی شادی کی ممانعت نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.