شہباز شریف مولانا فضل الرحمن کو منانے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف مولانا فضل الرحمان کو منانے کیلئے ان کی رہائشگاہ پہنچ گئے، شہبازشریف پارٹی قائد نوازشریف کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کررہے ہیں، شہباز شریف کے ہمراہ پارٹی وفد بھی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف وفد کے ہمراہ سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے ان کی رہائشگاہ پہنچ گئے ہیں۔شہباز شریف کی قیادت میں ن لیگی وفد مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ ن لیگی وفد میں سردار ایاز صادق ،خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق شامل ہیں۔

یاد رہے یہ ملاقات ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا نیا الائنس بن گیا ہے۔جس کے بعد اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتیں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے شدید تحفظات ہیں۔ اپوزیشن کے نئے الائنس میں جے یوآئی ف، اے این پی، پی کے میپ، قومی وطن پارٹی، اور نیشنل پارٹی نئے اتحاد کا حصہ ہوں گے۔ حکومت سے علیحدہ ہونے والی اتحادی جماعت بی این پی مینگل بھی اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کے الائنس کا حصہ بن گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میر حاصل بزنجو کی وفات کے بعد اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کا اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد کا اجلاس جلد مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوگا۔ واضح رہے سربراہ جےیوآئی ف کو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اے پی سی میں تاخیرپر شدید تحفظات ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں، موجودہ حکومت دھاندلی زدہ جعلی ہے۔لیکن بڑی جماعتیں حکومت کے خلاف واضح حکمت عملی دکھانے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔ جس پر مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم کو خود سیاسی میدان میں آنا پڑا۔ نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مریم نواز کو سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو ناراض نہیں کرسکتے۔ ن لیگ پارٹی کے معاملات اب میں خود بھی دیکھوں گا۔ اے پی سی پر اپوزیشن جماعتوں سے بات کی جائے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.