کوالالمپور میں طیارہ قبضے میں لیے جانے پر پی آئی اے کا ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) طیارہ 2015 میں لیز پر لیا گیا، 14 ملین ڈالرز لیز کی رقم ادا کرنا تھی، معاملہ سفارتی سطح پر حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں، کوالالمپور میں طیارہ قبضے میں لیے جانے پر پی آئی اے کا ردعمل۔ تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مسافر طیارہ قبضے میں لیے جانے کے معاملے پر پی آئی اے حکام کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ترجمان پی آئی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی آئی اے اور ایک دوسرے فریق کے مابین برطانیہ کی عدالت میں قانونی تنازع زیر التوا ہے جس کے تناظر میں ملائیشیا کی مقامی عدالت کے دیے گئے یک طرفہ حکم پر طیارے کو روکا گیا۔

بیان میں ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ طیارے میں سوار مسافروں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے اور ان کے سفر کے متبادل انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ن کا مزید کہنا تھا کہ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور پی آئی اے حکومت پاکستان کے تعاون سے یہ معاملہ سفارتی ذرائع سے اٹھانے میں مصروف ہے۔رپورٹس کے مطابق بی ایم ایچ رجسٹریشن کا حامل بوئنگ طیارہ لیز کمپنی کو ادائیگی نہ ہونے کے باعث روکا گیا۔مذکورہ طیارے کی قابل ادا رقم کی مالیت مبینہ طور پر 14 ملین ڈالرز ہے اور اس ضمن میں لندن کی عدالت میں معاملہ ثالثی کے مراحل میں ہے۔خیال رہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 895 کراچی سے آج کوالالمپور پہنچی تھی جہاں اسے کوالالمپور ائیر پورٹ پر قبضے میں لے لیا گیا۔عدالتی حکم پرطیارے کو تحویل میں لینے کی کارروائی مسافروں کے سوار ہونے کے بعد کی گئی، طیارے کولیزکے واجبات ادا نہ کرنے پر تحویل میں لیا گیا۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق معاملہ پی آئی اے اورایک پارٹی کے درمیان برطانوی عدالت میں زیر التواء ہے، طیارہ مقامی عدالت کے یکطرفہ فیصلے پرتحویل میں لیا گیا ہے۔پی آئی اے حکومتی سطح پر مسئلے کے حل کیلئے کوشاں ہے، پی آئی اے نے 2015 میں بوئنگ 777 طیارہ ویتنام کی کمپنی سے لیز پر حاصل کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں