سانحہ مچھ کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے، وزیراعظم عمران خان نے اہم انکشاف کردیا

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی واقعات میں35 سے 40 عناصر ملوث ہیں، ان کا داعش سے تعلق ہے یہ پہلے لشکر جھنگوی کا حصہ تھے، ہمارا سکیورٹی سیل بن گیا ہے، ان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے ہزارہ کمیونٹی کے غمزدہ خاندانوں سے ملاقات اور اظہار تعزیت کے بعدگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ بڑے سانحات ہوئے، میں اس وقت بھی آیا جب بڑی دہشتگری تھی، اس وقت جب میں نے مذہبی گروپ کا نام لے کر مذمت کی تو مجھے دھمکیاں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے مارچ سے ہماری انٹیلی جنس نے ہمیں آگاہ کیا کہ

ہندوستان پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے، شیعہ سنی کو قتل کرکے انتشار پھیلایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ پورا ایک سال ہم نےکوشش کی آپ لوگوں کوتحفظ دیں، ہم آپ کولکھ کردیں گے جو وعدے کیے پورے کریں گے،ماضی میں بھی ہزارہ برادری کے پاس آیا تھا اب دوبارہ آیا ہوں’ْاُن کا کہنا تھا کہ ’ہزارہ برادری کےتمام مسائل سمجھتاہوں،ماضی میں ایک کالعدم تنظیم کانام لیا تو انہوں نےمجھے دھمکیاں دیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آگاہ کیا تھا بھارت پاکستان میں انتشار چاہتاہے،پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات ہوسکتے ہیں‘۔’ مجھے بریفنگ دی گئی کہ شیعہ اور سنی علمائےکرام کونشانہ بنایاجائے گا، کراچی میں ایک سنی عالم کو شہیدکیا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی ایجنسیز نے بہترین کام کرکے اس سازش کو ناکام بنادیا، اس سازش کا مقصد شیعہ سنی کو لڑانا تھا، ہم نےمل کر ایس سازش کو ہمیشہ ناکام بناناہے‘۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ 35،40لوگ دہشت گردی کررہےہیں، یہ لوگ پہلے لشکرجھنگوی تھے اب داعش میں چلےگئے ہیں، ہمیں فساد پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کا علم ہے، جلد اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا‘۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتے ہیں آپ کو تحفظ فراہم کیاجائے گا، ایک سیکیورٹی گروپ بنارہےہیں جو ہزارہ برادری کی سیکیورٹی دیکھےگا‘۔عمران خان نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وزیراعظم نہیں تھا تو ہزارہ برادری سےملنےآیا تھا، میں نے اسی لیےکہاکہ پہلے تدفین کردیں پھر میں آؤں گا کیونکہ اگر کل کو کوئی اور

وزیراعظم ہوگا تو آنے کا اصول بن جائے گا، مشکور ہوں کہ شہداکی تدفین کردی گئی‘۔وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ’میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کے ساتھ رابطے بھی تھا اور صورت حال پر گہری نظر تھی، ہزارہ برادری کویقین دہانی کراتاہوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہزارہ برادری سےجوبھی وعدےکیے وہ پورےکریں گے، پاکستان ہی نہیں دنیا میں مسلمانوں کو متحدکرنےکی کوشش کررہا ہوں کیونکہ ہمیں علم ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم کر کے دنیا پر کون حکمرانی کررہا ہے، پاکستانی قوم کو بھی تقسیم کر کے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، میرا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنی قوم کو متحدکروں، ہم متحدہوں گے تو مسائل نہیں ہوں گے اور ایسےواقعات کامقابلہ کرسکیں گے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں