اگر عمران خان ہماری ایک بات مان لے تو ہم بھی خوش اور عمران خان بھی خوش، ن لیگ کی پیشکش

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان کو پیشکش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 2018ء میں جب یہ حکومت برسر اقتدار لائی گئی تو یہ مؤقف بہت مضبوط تھا کہ ہم اسمبلیوں میں نہ جائیں اور پہلے دن سے ہی بائیکاٹ کر دیں لیکن بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کہا ہم ملک میں بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے۔یہ حکومت دھاندلی سے آ گئی ہے ، یہ بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے بیس سال سے ہوم ورک کیا ہوا ہے، ہمارے پاس ورلڈ کلاس ٹیم ہے،

ہم نے سوچا کہ اگر یہ کوئی اچھا کام کریں گے تو ملک کا ہی بھلا ہو گا لہٰذا ان کو موقع دیا جائے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ سوا دو سال کے اندر انہوں نے معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، اور اس کے ساتھ انہوں نے ملک کے اندر جو سیاست تھی اس میں پولیرائزیشن پیدا کر دی کہ انہوں نے اپوزیشن کو اس جمہوری نظام کا حصہ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔عمران خان آج تک کبھی قومی قیادت کے ساتھ نہیں بیٹھے۔ کشمیر انہوں نے انڈیا کو دے دیا۔ پاکستان کے ساتھ آج کوئی دوست ملک نہیں ہے ۔ ملک کی تمام جمہوری جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اس سے پہلے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوں اور سنبھالنا مشکل ہو جائیں تو لہٰذا اب ان کو مزید مہلت دینے کا مطلب عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ لانگ مارچ جب آئے گا ، اگر حکومت اس دباؤ کو دیکھتے ہوئے نئے انتخابات کے لیے تیار ہوتی ہے، وزیراعظم مستعفی ہوتے ہیں، اسمبلیاں تحلیل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نئے حل کی جانب جاتے ہیں تو یہ خوش آئند ہو گا لیکن اگر وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو اپوزیشن مستعفی ہو سکتی ہے۔اگر حکومت نہ سمجھی اور اپوزیشن مستعفی ہو گئی تو اس کے نتیجے میں بالآخر حکومت کو گھر ہی جانا ہو گا اور اس سے نئے الیکشن کا راستہ کُھلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اور اسٹیک ہولڈرز بیٹھ کر اپنے اپنے کنڈکٹ کے حوالے سے نظر ثانی کریں ، ہم اس ملک کو ایک نارمل ملک کے طور پر چلائیں۔ ملک میں جو ادارے اپنے اختیارات سے بڑھ کر دوسروں کے اختیارات سے کھیلتے ہیں یہ سب کچھ بند ہونا چاہئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں