لوگ بار بار کہتے ہیں مدینہ کی ریاست کہاں ہے،وزیراعظم

پشاور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں لوگ بار بار کہتے ہیں مدینہ کی ریاست کہاں ہے ، مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی گئی تھی ، عوام کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو امراض قلب کے علاج کی سہولت کیلئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے ، افغانستان سے بھی یہاں مریض علاج کرانے آئیں گے ، پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی علاقے کیلئے بہت بڑی نعمت ہے ، پشاور میں ابھی تک امراض قلب کا کوئی اسپتال نہیں تھا ، لیڈی ریڈنگ

اسپتال میں امراض قلب وارڈ کے نتائج اچھے نہیں تھے ، پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بہت ضرورت تھی ، پشاورکارڈیک انسٹی ٹیوٹ مکمل کرنے پر خیبر پختونخوا حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، جب غریب گھرانے میں کوئی بیمار ہوتا ہے تو پورا بجٹ خراب ہوجاتا ہے ، ہم نے کورونا کے دوران فنڈ ڈھونڈے اور ہسپتال کو مکمل کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی گئی تھی ، دنیا کی پہلی فلاحی ریاست حضرت محمد ﷺ نے بنائی تھی ، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے ، ہیلتھ کارڈ سے پرائیویٹ یا گورنمنٹ اسپتال میں علاج کرایا جاسکے گا ، حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ پورے ملک میں ہسپتال بنائیں ، جتنا بھی ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے اس کا آدھا تو قرضوں کی مد میں چلا جاتا ہے ، پنجاب اور خیبر پختونخوامیں سستے داموں پر پرائیویٹ اسپتالوں کیلئے زمین دی جائی گی ، ہسپتالوں کی جتنی بھی چیزیں پاکستان میں نہیں بنتی ان کو ڈیوٹی فری کردیا گیا ہے ، عوام کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، جس کیلئے گورنمنٹ ہسپتال کا معیار بحال رکھنا ہے ، ہسپتال ریفارمز کا مقصد گورنمنٹ اسپتالوں کا معیار اوپر آئے ، کیوں کہ سزا اور جزا کا قانون ختم ہونے سے گورنمنٹ ہسپتال نیچے آگئے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس افسوسناک تھا، قوم نے فیصلہ کیا کہ مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے، سانحہ اے پی ایس پشاور نے پوری قوم کو متحد کیا ، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہوئی اور اسے شکست دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں